آسٹریلیا کے مرکزی بینک کے نائب گورنر اینڈریو ہاؤزر نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی سطح ابھی بھی “بہت زیادہ” ہے، جو سود کی شرح مقرر کرنے والے بورڈ کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مہنگائی کا تسلسل روکنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ اس کے طویل عرصے تک برقرار رہنے سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مرکزی بینک پر مہنگائی کو مؤثر انداز میں کنٹرول کرنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے تاکہ معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
آسٹریلیا میں مہنگائی کی شرح حالیہ برسوں میں کئی عالمی عوامل اور مقامی معاشی دباؤ کی وجہ سے بڑھتی رہی ہے۔ عالمی سطح پر توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین کے مسائل اور دیگر ماحولیاتی و جغرافیائی عوامل نے مہنگائی کو بڑھاوا دیا ہے۔ مرکزی بینک کا کام ہے کہ وہ سود کی شرح میں تبدیلی کے ذریعے معیشت کو متوازن رکھے اور مہنگائی کو قابو میں لائے تاکہ صارفین اور کاروباری اداروں کی قوت خرید متاثر نہ ہو۔
آنے والے دنوں میں مرکزی بینک کی پالیسی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ کس حد تک مہنگائی کو کم کر پاتا ہے اور معیشت کو زیادہ دباؤ میں ڈالے بغیر استحکام فراہم کر سکتا ہے۔ اگر مہنگائی کنٹرول نہ کی گئی تو اس کے باعث شرح سود میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے قرضوں کی لاگت بڑھ جائے گی اور سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، طویل مدتی مہنگائی معاشی ترقی کی رفتار کو سست کر سکتی ہے اور عوامی معیار زندگی پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
مرکزی بینک کی حکمت عملی اور سود کی شرح میں ممکنہ تبدیلیاں نہ صرف آسٹریلیا کی معیشت بلکہ عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں، کیونکہ آسٹریلیا کا اقتصادی نظام عالمی تجارت اور سرمایہ کاری میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے بینک کی طرف سے مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ ملک کی معاشی صحت کو مضبوط بنایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance