امریکی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے اور ییل یونیورسٹی کے محققین نے بتایا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے آلات کام کے بوجھ کو کم کرنے کے بجائے اسے بڑھا دیتے ہیں جس کی وجہ سے کام کے دوران ذہنی دباؤ اور تھکن میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ابتدائی توقع تھی کہ AI ٹیکنالوجیز کام کو آسان اور تیز تر بنانے میں مدد کریں گی، لیکن حقیقت میں یہ ٹولز کام کے حجم کو بڑھا کر ملازمین پر اضافی بوجھ ڈال رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی افادیت نے مختلف شعبوں میں کام کے طریقے بدل دیے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی، خاص طور پر آٹومیشن اور ڈیٹا انیلیسس میں، کمپنیوں کو زیادہ مؤثر بنانے کا ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔ تاہم، محققین کا کہنا ہے کہ AI کے استعمال سے کام کی نوعیت میں تبدیلی آتی ہے جس سے افراد کو نئی ذمہ داریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جسے “کام کے بوجھ کا بڑھنا” یا “workload creep” کہا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملازمین کو پہلے سے زیادہ کام کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے اور وہ زیادہ جلدی تھکن محسوس کرنے لگتے ہیں۔
یہ صورتحال خاص طور پر ان اداروں میں نمایاں ہے جہاں AI کے ذریعے روزمرہ کے معمولی کام خودکار ہو رہے ہیں، لیکن اس کے بدلے میں ملازمین کو زیادہ پیچیدہ اور تخلیقی کام انجام دینے ہوتے ہیں۔ اس تبدیلی نے کام کے اوقات میں بھی اضافہ کیا ہے، جس سے کام اور ذاتی زندگی کے توازن پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ AI کے استعمال کے فوائد کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس کے نفاذ کے دوران کام کے بوجھ اور ذہنی دباؤ کے مسائل کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ ورنہ اس ٹیکنالوجی کی بدولت پیدا ہونے والی ذہنی تھکن مستقبل میں ملازمین کی کارکردگی اور صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
اس حوالے سے کمپنیوں اور پالیسی ساز اداروں کو چاہیئے کہ وہ AI کے استعمال کے ساتھ ساتھ ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے بھی اقدامات کریں تاکہ کام کی نئی نوعیت کے ساتھ مطابقت پیدا کی جا سکے اور ذہنی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt