سگنیچر فشنگ حملوں میں ۲۰۰ فیصد اضافہ، جنوری میں ۶ ملین ڈالر سے زائد کا نقصان

زبان کا انتخاب

جنوری کے مہینے میں تقریباً ۴۷۰۰ افراد کو سگنیچر فشنگ کے حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر ۶.۲۷ ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔ یہ حملے خاص طور پر ایتھیریم کی کم فیس اور صارفین کے معمولات کا فائدہ اٹھا کر کیے گئے ہیں۔ سگنیچر فشنگ ایک قسم کی سائبر دھوکہ دہی ہے جس میں حملہ آور صارفین کی والٹ سیکیورٹی کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں تاکہ ان کے کرپٹو اثاثے چوری کیے جا سکیں۔
ایتھیریم، جو ایک مقبول بلاک چین پلیٹ فارم ہے، اس وقت کم ٹرانزیکشن فیس کی وجہ سے صارفین میں مزید مقبول ہو رہا ہے۔ تاہم، یہ سہولت حملہ آوروں کے لیے بھی موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ کم لاگت میں زیادہ تعداد میں دھوکہ دہی کے حملے کر سکیں۔ صارفین کی جانب سے ایک ہی والٹ یا سگنیچر کا بار بار استعمال، یا کم محفوظ طریقوں سے ٹرانزیکشن کی منظوری دینا، ان حملوں کو ممکن بناتا ہے۔
سگنیچر فشنگ میں، صارف سے جعلی یا دھوکہ دہی پر مبنی درخواست کے ذریعے ان کے سگنیچر یعنی ڈیجیٹل دستخط کا مطالبہ کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے حملہ آور غیر مجاز ٹرانزیکشنز کر لیتے ہیں۔ یہ طریقہ روایتی فشنگ سے مختلف اور زیادہ پیچیدہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں براہ راست والٹ کی سیکیورٹی کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں حفاظت اور صارفین کی آگاہی وقت کے ساتھ بڑھ رہی ہے، لیکن یہ تازہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دھوکہ دہی کے طریقے بھی مسلسل ترقی کر رہے ہیں۔ صارفین کو چاہیے کہ وہ اپنی والٹ سیکیورٹی پر خاص توجہ دیں، مشکوک لنکس یا درخواستوں سے اجتناب کریں اور ہر ٹرانزیکشن کی تفصیل کو بغور جانچیں۔ کرپٹو مارکیٹ میں اس طرح کے حملے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر سکتے ہیں اور قانونی حکام کو بھی اس مسئلے پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
آئندہ کے لیے یہ خدشہ موجود ہے کہ اگر صارفین نے اپنی حفاظت کے اقدامات کو مضبوط نہ کیا تو ایسے حملے مزید بڑھ سکتے ہیں، جس سے کرپٹو کرنسی کی قبولیت اور استعمال پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش