جاپان کی مالیاتی پالیسی میں حالیہ تبدیلیوں کے باعث اسٹاک مارکیٹ اور محفوظ سرمایہ کاری کے ذرائع میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ نِکی انڈیکس، جو جاپان کی سب سے اہم اسٹاک مارکیٹ کا اشاریہ ہے، نے اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح حاصل کی ہے اور 56,000 پوائنٹس کی نمایاں ترقی کی ہے۔ اس تیز رفتار اضافے نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی ردعمل ظاہر کیا، خاص طور پر کرپٹو کرنسی اور قیمتی دھاتوں میں۔
اس کے نتیجے میں بٹ کوائن کی قیمت 72,000 ڈالر کی سطح کو عبور کر گئی ہے جو کہ اس کی حالیہ تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس کے علاوہ، سونا بھی ایک محفوظ پناہ گزین کے طور پر مقبولیت میں اضافہ کرتے ہوئے 5,000 ڈالر کی قیمت سے اوپر پہنچ گیا ہے۔ یہ دونوں اثاثے عام طور پر عالمی مالی بے یقینی کے دوران سرمایہ کاروں کا پہلا انتخاب ہوتے ہیں۔
نِکی انڈیکس کی اس غیر معمولی کارکردگی کا محرک جاپان کی مرکزی بینک کی طرف سے مالیاتی پالیسی میں کی گئی تبدیلیاں ہیں، جن کا مقصد ملکی معیشت کو مستحکم کرنا اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ اس اقدام کے تحت شرح سود کم رکھنے اور نقدی کی فراہمی میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
اس صورتحال نے نہ صرف جاپانی سرمایہ کاروں میں اعتماد بڑھایا ہے بلکہ عالمی سرمایہ کار بھی جاپان کی مالیاتی مارکیٹ کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں۔ تاہم، ماہرین اقتصادیات اور مالی تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ اس طرح کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ میں اچانک تصحیح یا کمی کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے، خاص طور پر جب عالمی معیشت غیر مستحکم ہو۔
مستقبل میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ جاپانی مالیاتی پالیسیاں اور عالمی مارکیٹوں کے رجحانات کس طرح ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں، اور آیا یہ اضافے طویل المدتی استحکام کی طرف اشارہ کرتے ہیں یا عارضی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk