امریکہ کے فیڈرل ریزرو نے مالیاتی پالیسی میں تدریجی پیسہ سازی کا راستہ اپنانے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد اثاثوں کی قیمتوں میں معمولی اضافہ کرنا ہے۔ ماہر معاشیات اور بٹ کوائن کے حمایت کنندہ لن آلڈن کے مطابق، یہ حکمت عملی بٹ کوائن کمیونٹی میں متوقع بڑے پیمانے پر پیسہ چھاپنے سے کم اثر رکھے گی۔ وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ فیڈرل ریزرو اپنی بیلنس شیٹ کو بینکوں کی کل اثاثہ جات یا مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو کے مطابق بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انھوں نے سرمایہ کاری کے متعلق یہ بھی کہا کہ ایسے معیاری اور قیمتی اثاثے رکھنا ضروری ہے جو کم دستیاب ہوں اور جن سے سرمایہ کار زیادہ متحرک شعبوں سے ہٹ کر کم سرمایہ کاری والے شعبوں کی طرف رجوع کریں۔
ادھر، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیون وورش کو اگلے فیڈرل ریزرو چیئرمین نامزد کیے جانے پر مارکیٹ میں ملا جلا ردعمل دیکھا گیا ہے۔ وورش کو شرح سود کے حوالے سے سخت گیر تصور کیا جاتا ہے، جو دیگر ممکنہ امیدواروں سے مختلف ہے۔ شرح سود کی پالیسیاں کرپٹو کرنسی کی قیمتوں پر گہرا اثر ڈالتی ہیں کیونکہ پیسے کی فراہمی میں اضافہ عام طور پر اثاثوں کے لیے سازگار سمجھا جاتا ہے، جبکہ شرح سود میں اضافہ معاشی سست روی اور قیمتوں میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔
مارچ میں ہونے والی فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی (FOMC) کی میٹنگ میں شرح سود میں کمی کی توقع کم ہے، جہاں صرف ایک محدود تعداد کے تاجر اس اقدام کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ موجودہ چیئرمین جروم پاول نے حالیہ سالوں میں شرح سود میں کئی بار کمی کی ہے لیکن انہوں نے مہنگائی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور روزگار کے مسائل کے درمیان توازن قائم رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاول کا عہدہ مئی 2025 میں ختم ہو رہا ہے اور وورش کی صدارت کی تصدیق امریکی سینیٹ میں زیر التوا ہے، جو 2026 میں شرح سود کی پالیسیوں کے حوالے سے سرمایہ کاروں کی بے چینی کا باعث ہے۔
فیڈرل ریزرو کی جانب سے یہ تدریجی حکمت عملی عالمی مالیاتی منڈیوں اور کرپٹو کرنسی مارکیٹ پر براہ راست اور بالواسطہ اثرات مرتب کر سکتی ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance