گزشتہ ہفتے کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں شدید گراوٹ دیکھنے میں آئی، جس کے باعث بٹ کوائن اور دیگر اہم کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ اس دوران مالیاتی تجزیہ کاروں اور مخصوص ناقدین نے اپنی پیشگوئیوں کی تائید محسوس کی اور خود کو درست ثابت ہونے پر سراہا۔ مالیاتی نشریاتی ادارے اور ماہرین، جن میں کچھ ایسے بھی شامل تھے جو کرپٹو کرنسیوں کے مخالف ہیں، نے اس مندی کو اپنی کامیابی قرار دیا۔
بٹ کوائن، جو دنیا کی سب سے بڑی اور معروف کرپٹو کرنسی ہے، گزشتہ کئی سالوں میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔ اس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ عالمی مالیاتی مارکیٹ پر بھی پڑتا ہے۔ حالیہ گراوٹ کے باوجود، کچھ ماہرین نے کہا ہے کہ مارکیٹ میں نیچے آنے کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بٹ کوائن اپنی نچلی سطح پر پہنچ چکا ہے اور جلد ہی مارکیٹ میں استحکام آ سکتا ہے۔
کرپٹو کرنسی مارکیٹ کی یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں معاشی غیر یقینی صورتحال، مرکزی بینکوں کی پالیسیوں اور عالمی مالیاتی نظام میں تبدیلیاں جاری ہیں۔ سرمایہ کار اس وقت محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں جبکہ کچھ لوگ اس مندی کو خریداری کا موقع بھی سمجھ رہے ہیں۔ تاہم، کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے باعث سرمایہ کاری میں خطرات بھی موجود ہیں۔
مستقبل میں، بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں کا انحصار عالمی مالیاتی حالات، حکومتی ریگولیشنز اور مارکیٹ میں طلب و رسد پر ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کو محتاط اور معلوماتی فیصلے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ممکنہ نقصانات سے بچ سکیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk