میامی میں منعقدہ ایک کانفرنس، جو مالیاتی دنیا کے سب سے زیادہ خطرہ مول لینے والے تاجروں کے لیے مختص تھی، میں کرپٹو کرنسی مارکیٹ کی موجودہ صورتحال نمایاں طور پر مختلف نظر آئی، خاص طور پر وبائی دور کے عروج کے مقابلے میں۔ اس موقع پر بٹ کوائن اور ایتھیریم جیسی دو سب سے بڑی کرپٹو کرنسیاں شدید گراوٹ کا شکار رہیں، جس نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا دیا۔
بٹ کوائن اور ایتھیریم نے گزشتہ چند مہینوں میں اپنی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی ہے، جس کی وجہ عالمی معیشتی دباؤ، سود کی شرحوں میں اضافہ، اور کرپٹو مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی ریگولیٹری پابندیاں شامل ہیں۔ میامی کا یہ ایونٹ، جو روایتی مالیاتی کانفرنسوں سے ہٹ کر ’ڈیگونز‘ یعنی انتہائی رسک لینے والے سرمایہ کاروں کے لیے منعقد کیا جاتا ہے، اس بار خاصا مختلف ماحول پیش کر رہا تھا، جہاں سرمایہ کار محتاط رویہ اپنائے ہوئے تھے۔
کرپٹو کرنسیز کے حوالے سے یہ مارکیٹ عالمی سطح پر اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے، اور اس ضمن میں میامی کا یہ اجلاس اس تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے جہاں پہلے کی طرح بے خوف سرمایہ کاری کا رجحان کم ہوتا دکھائی دیا۔ اس کانفرنس میں شرکت کرنے والے ماہرین کے مطابق، موجودہ حالات میں سرمایہ کاروں کو اپنی حکمت عملیوں میں احتیاط برتنی چاہیے اور ممکنہ نقصانات سے بچاؤ کے لیے متنوع سرمایہ کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
کرپٹو کرنسی مارکیٹ کی یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب دنیا بھر کے مالیاتی ادارے اور ریگولیٹرز اس نئے مالیاتی آلے کو سمجھنے اور کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، عالمی معیشت میں جاری غیر یقینی صورتحال نے بھی کرپٹو کرنسی کی قیمتوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مارکیٹ کی حرکات کو بغور دیکھیں اور اپنی سرمایہ کاری کے فیصلے دانشمندی سے کریں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt