وائٹ ہاؤس نے ایک نئے کیش-پے پلیٹ فارم TrumpRx کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد امریکہ میں ادویات کی بلند قیمتوں کو کم کرنا ہے۔ یہ پلیٹ فارم خاص طور پر GLP-1 قسم کی ادویات کے گرد بنایا گیا ہے جو موٹاپے اور ذیابیطس جیسے امراض کے علاج میں استعمال ہوتی ہیں اور امریکہ میں ان کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ اس منصوبے کے تحت صارفین کو درمیانی درجے کے دکانداروں یا انشورنس کمپنیوں کو درمیان میں لائے بغیر، براہ راست ادویات خریدنے کی سہولت دی جائے گی جس سے قیمتوں میں کمی کی توقع ہے۔
امریکہ میں دوائیوں کی بلند قیمتوں کا مسئلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے اور اس میں فارما کمپنیوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مختلف حکومتی اقدامات کیے گئے مگر وہ زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔ TrumpRx کا مقصد یہی ہے کہ صارفین کو سستی اور معیاری ادویات کی فراہمی ممکن بنائی جائے، جس سے صحت کی سہولیات کی رسائی میں بہتری آئے گی۔
یہ پروگرام خاص طور پر ان مریضوں کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے جو مہنگی ادویات کی وجہ سے علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔ تاہم، اس اقدام کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ یہ پلیٹ فارم کتنی مؤثر طریقے سے فارما کمپنیوں اور درمیانی کاروباری اداروں کے دباؤ کو کم کر پاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو یہ امریکہ میں ادویات کی مارکیٹ میں ایک نیا انقلاب لا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے وسیع پیمانے پر تعاون اور مناسب حکومتی نگرانی ضروری ہوگی۔
TrumpRx کا آغاز امریکی صحت کے نظام میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے جہاں مریضوں کو سہولیات مہیا کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور حکومتی اقدامات کو یکجا کیا جا رہا ہے تاکہ دوائیوں کی قیمتوں کو کم کیا جا سکے اور صحت کی خدمات کو عام آدمی کے لیے قابل رسائی بنایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt