گزشتہ چند برسوں میں این ایف ٹی (نان فنجیبل ٹوکن) کی مقبولیت میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آیا، خاص طور پر مشہور شخصیات نے اس ڈیجیٹل اثاثے میں سرمایہ کاری کی۔ اسی سلسلے میں گلوکار جسٹن بیبر نے بورڈ ایپ یات کلب کے ایک این ایف ٹی کے لیے تقریباً 1.3 ملین ڈالر کی رقم ادا کی تھی۔ بورڈ ایپ یات کلب، جو ایٹھیریم بلاک چین پر مبنی ایک معروف این ایف ٹی پروجیکٹ ہے، اس کے ڈیجیٹل اپنائے گئے کردار (اپیز) نے ابتدائی طور پر نمایاں مقبولیت حاصل کی تھی اور ان کی قیمتیں بھی بہت زیادہ تھیں۔
لیکن حالیہ مارکیٹ کی صورتحال میں این ایف ٹی کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور اب اسی بورڈ ایپ کی قیمتیں تقریباً 12 ہزار ڈالر سے شروع ہوتی ہیں، جو کہ سابقہ قیمت کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ یہ تبدیلی این ایف ٹی مارکیٹ میں آنے والی اتار چڑھاؤ کی عکاسی کرتی ہے، جہاں قیمتیں بہت تیزی سے بڑھ بھی سکتی ہیں اور گر بھی سکتی ہیں۔
این ایف ٹی ایک قسم کی ڈیجیٹل ملکیت ہے جو بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے محفوظ اور منفرد ہوتی ہے۔ مشہور شخصیات اور سرمایہ کار اس دنیا میں دلچسپی لے رہے ہیں، مگر اس کی غیر مستحکم نوعیت سرمایہ کاری کے لیے خطرات بھی رکھتی ہے۔ جسٹن بیبر کا یہ معاملہ اس بات کی مثال ہے کہ این ایف ٹی کی مارکیٹ میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
آگے چل کر، این ایف ٹی مارکیٹ کی مستقبل کی سمت اس بات پر منحصر ہوگی کہ عالمی سطح پر بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے کس طرح کے ضوابط بنائے جاتے ہیں اور صارفین کی دلچسپی میں کیا تبدیلی آتی ہے۔ اگرچہ این ایف ٹی ٹیکنالوجی میں نئی جدتیں آ رہی ہیں، مگر سرمایہ کاروں کو اپنی سرمایہ کاری کے حوالے سے احتیاط برتنی چاہیے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt