بٹ کوائن کی قیمت میں حالیہ دنوں میں 14 فیصد کی شدید کمی اور مجموعی طور پر 50 فیصد سے زائد کی گراوٹ نے اسے اس حد تک پہنچا دیا ہے جو عام طور پر بیئر مارکیٹ کے دائرے میں آتی ہے۔ بیئر مارکیٹ وہ عرصہ ہوتا ہے جب سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہو جاتا ہے اور قیمتیں مسلسل نیچے آتی ہیں، جس کا اثر پوری کرپٹو مارکی بازار پر پڑتا ہے۔
بٹ کوائن دنیا کی سب سے معروف اور قدیم کریپٹو کرنسی ہے جس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کو سرمایہ کار اور ماہرین خاص طور پر توجہ سے دیکھتے ہیں۔ گزشتہ دہائی میں بٹ کوائن نے کئی بار بڑے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں، جن میں تیزی سے قیمتوں میں اضافہ اور پھر شدید گراوٹ شامل ہے۔ اس بار بھی، اس کی قیمت میں اتنی بڑی کمی نے مارکیٹ میں تشویش پھیلا دی ہے کہ کہیں یہ کرپٹو کرنسی کے لیے ایک طویل مدتی بیئر مارکیٹ کی شروعات تو نہیں۔
کرپٹو مارکیٹ کی فطرت میں اتار چڑھاؤ عام ہے، لیکن جب قیمتیں 50 فیصد یا اس سے زیادہ نیچے گر جاتی ہیں، تو یہ اکثر ایک مندی کے دور کی نشاندہی کرتا ہے جو کئی مہینوں یا سالوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ اس دوران سرمایہ کار محتاط ہو جاتے ہیں اور نئی سرمایہ کاری کم کر دیتے ہیں، جس سے مارکیٹ کی روانی متاثر ہوتی ہے۔
آگے کے مراحل میں، اگر قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو کرپٹو کرنسیوں کی عالمی قبولیت اور سرمایہ کاری میں مزید کمی متوقع ہے۔ تاہم، تکنیکی اصلاحات، نئی ریگولیٹری پالیسیز، اور مارکیٹ میں مثبت رجحانات کی بنیاد پر بھی بہتری کا امکان موجود ہے۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کو سمجھ کر محتاط فیصلے کریں کیونکہ کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ ہمیشہ غیر متوقع رہتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt