بٹ کوائن کی قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ کے بعد یہ دوبارہ 65,000 ڈالر کے اوپر پہنچ گئی ہے۔ مارکیٹ میں ابتدائی طور پر بٹ کوائن کی قیمت تقریباً 4.8 فیصد گر کر 60,033 ڈالر تک پہنچ گئی، لیکن جلد ہی اس نے تیزی سے واپسی کرتے ہوئے 65,926 ڈالر کی بلند سطح حاصل کر لی۔ اس دوران ایشیائی مارکیٹس میں تقریباً 700 ملین ڈالر کا مالی نقصان بھی ریکارڈ کیا گیا، جس نے سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا کی۔
بٹ کوائن، جو دنیا کی سب سے معروف اور قدیم کرپٹو کرنسی ہے، اپنی قیمت میں اتار چڑھاؤ کے باعث سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ عام طور پر اس کی قیمت عالمی مالیاتی حالات، ریگولیٹری خبروں، اور مارکیٹ میں طلب و رسد کے تناسب سے متاثر ہوتی ہے۔ حالیہ اتار چڑھاؤ ایشیا کی مارکیٹس میں مالیاتی انسٹیٹیوشنز اور بڑے سرمایہ کاروں کے درمیان تیزی سے بدلتے ہوئے رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔
بٹ کوائن کی قیمت میں یہ تیزی سے اضافہ اور کمی سرمایہ کاروں کے لیے خطرات کے ساتھ ساتھ مواقع بھی پیش کرتا ہے۔ ایسے اتار چڑھاؤ مارکیٹ میں عدم استحکام کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کے باعث چھوٹے سرمایہ کاروں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، بڑی سرمایہ کاری کرنے والے اور ماہر تجزیہ کار اس طرح کے موقعوں کو مارکیٹ میں داخلے یا اضافی سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
کرپٹو کرنسی مارکیٹ کی یہ صورتحال اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی مالیاتی مارکیٹیں کس حد تک غیر مستحکم ہو سکتی ہیں، خاص طور پر جب بڑی مقدار میں سرمایہ مارکیٹ سے باہر یا اندر آتا ہے۔ مستقبل میں بٹ کوائن کی قیمت میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان موجود ہے، جس کے لیے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنا ضروری ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk