اعلیٰ سائنسدانوں کا اعتراف: اب زیادہ تر علمی کام مصنوعی ذہانت انجام دیتی ہے

زبان کا انتخاب

پرنسٹن میں ایک خفیہ اجلاس میں دنیا کے ممتاز محققین نے اعتراف کیا کہ جدید ایجنٹک مصنوعی ذہانت کے آلات اب ان کے علمی کام کا تقریباً نوے فیصد حصہ انجام دے رہے ہیں۔ اس پیش رفت نے سائنس کی دریافت میں انسانی اور مشینی کردار پر گہری بحث کو جنم دیا ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کے تیز رفتار ارتقاء نے تحقیقاتی عمل کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔ روایتی طور پر، سائنسدان تجربات، ڈیٹا تجزیہ، اور نظریات کی تشکیل میں اپنا ذہنی سرمایہ لگاتے تھے، لیکن اب AI سسٹمز خودکار طور پر ڈیٹا کا تجزیہ، ماڈلنگ، اور پیچیدہ حساب کتاب انجام دے رہے ہیں، جو تحقیق کی رفتار اور دقت کو بڑھا رہا ہے۔
یہ تبدیلی محققین کو نئے سوالات کے جواب تلاش کرنے میں مدد دیتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی انسانی تخلیقی صلاحیت اور فیصلہ سازی کے کردار پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ سائنسدانوں کو غور کرنا ہوگا کہ تحقیق میں مشینوں کی بڑھتی ہوئی شمولیت سے کن اخلاقی، سماجی اور پیشہ ورانہ چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف سائنسی دنیا بلکہ تعلیم، صنعت، اور حکومتی پالیسی سازی پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ مستقبل میں، ممکن ہے کہ AI مزید خود مختار ہو جائے اور انسانی مداخلت کے بغیر نئے نظریات یا ایجادات پیش کرے، جس سے تحقیق کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔
تاہم، اس پیش رفت کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ AI کی حدود، حفاظتی اقدامات، اور انسانی نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ سائنس کی ترقی ذمہ داری اور شفافیت کے ساتھ جاری رہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے