بٹ کوائن کی قیمت میں حالیہ کمی نے کرپٹو کرنسی کے مائنرز کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ جمعرات کو بٹ کوائن کی قیمت 63,000 ڈالر سے نیچے گر گئی، جو کہ عوامی طور پر تجارت کرنے والے مائنرز کے اوسط پیداواری لاگت کے قریب ہے۔ اس صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ مائنرز اپنی لاگت کو پورا کرنے میں دشواری کا سامنا کر سکتے ہیں، جس سے ان کے آپریشنز پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
بٹ کوائن، دنیا کی سب سے معروف اور قدیم کرپٹو کرنسی، مائننگ کے ذریعے پیدا کی جاتی ہے جہاں کمپیوٹرز پیچیدہ ریاضیاتی مسائل حل کرتے ہیں اور اس کے بدلے نئے بٹ کوائنز حاصل کرتے ہیں۔ تاہم، جب بٹ کوائن کی مارکیٹ قیمت مائننگ کی لاگت سے کم ہو جاتی ہے تو مائنرز کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی مشینری بند کرنے یا مارکیٹ سے نکلنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
ماضی میں بھی بٹ کوائن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، اور 50 فیصد تک کی کمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرتی ہے۔ ایسے حالات میں، مائننگ کمپنیوں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے اور لاگت کو کم کرنے کے لیے اضافی اقدامات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، کرپٹو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ سرمایہ کاروں کے لیے بھی خطرات کا باعث بنتے ہیں۔
اگر بٹ کوائن کی قیمت مزید گرنے کا سلسلہ جاری رہا تو اس کا اثر نہ صرف مائنرز بلکہ پورے کرپٹو کرنسی کے ماحولیاتی نظام پر پڑ سکتا ہے۔ تاہم، بٹ کوائن کی مارکیٹ نے ماضی میں کئی بحرانوں کا سامنا کیا ہے اور وقت کے ساتھ اپنی قدر میں بحالی دیکھی گئی ہے، اس لیے سرمایہ کار اور مائنرز اس صورتحال پر محتاط نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt