امریکی سینیٹرز نے وی مو کمپنی سے اس کے فلپائن میں انسانی آپریٹرز کے استعمال پر سخت سوالات کیے ہیں، جس سے اس بات پر شکوک پیدا ہو گئے ہیں کہ آیا واقعی وی مو کی گاڑیاں مکمل طور پر خودکار ہیں یا نہیں۔ وی مو، گوگل کی ماتحت کمپنی، خودکار گاڑیوں کی صنعت میں ایک نمایاں نام ہے جو خود چلنے والی گاڑیوں کی ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے دعوے ہیں کہ ان کی گاڑیاں بغیر کسی انسانی مداخلت کے چل سکتی ہیں، مگر حالیہ سوالات نے اس دعوے کو چیلنج کر دیا ہے۔
وی مو کا فلپائن میں انسانی آپریٹرز کا استعمال، جو کہ گاڑیوں کی نگرانی اور کنٹرول کے لیے کام کرتے ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کمپنی کی خودکار گاڑیوں کی ٹیکنالوجی ابھی مکمل طور پر آزاد نہیں ہوئی۔ سینیٹ کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا مقصد یہ جاننا تھا کہ وی مو کی “خودکار” گاڑیاں کتنا خودمختار ہیں اور آیا کمپنی کی مارکیٹنگ اور دعوے حقیقت پر مبنی ہیں یا نہیں۔ اس صورتحال نے خودکار گاڑیوں کی صنعت میں شفافیت اور صارفین کے تحفظ کے حوالے سے اہم بحث کو جنم دیا ہے۔
خودکار گاڑیاں مستقبل کی نقل و حمل کا ایک اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں اور دنیا بھر میں مختلف ٹیکنالوجی کمپنیوں اور کار ساز اداروں کی جانب سے اس شعبے میں سرمایہ کاری اور تحقیق جاری ہے۔ وی مو نے پہلے بھی کئی بار خودکار ڈرائیونگ کے حوالے سے پیش رفت کی ہے، لیکن انسانی مداخلت کی ضرورت اب بھی ایک اہم پہلو ہے جو صارفین اور قانون ساز اداروں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
آئندہ میں ممکن ہے کہ وی مو کو اپنی تکنیکی کارکردگی اور دعوؤں کی وضاحت کرنی پڑے تاکہ صارفین اور ریگولیٹری اداروں کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، خودکار گاڑیوں کے لیے سخت ضوابط اور حفاظتی معیارات متعارف کرانے کی ضرورت بھی محسوس کی جا رہی ہے تاکہ اس ٹیکنالوجی کی حفاظت اور مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt