بٹ کوائن کی قیمت 68,000 یو ایس ڈی ٹی سے نیچے گر گئی، 24 گھنٹوں میں 8.98 فیصد کی کمی

زبان کا انتخاب

بٹ کوائن کی قیمت میں حالیہ شدید کمی نے سرمایہ کاروں کو بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے۔ بینانس کے مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق، فروری 2026 کے آغاز میں بٹ کوائن کی قیمت 68,000 امریکی ڈالر کے نشان سے نیچے آ گئی اور 67,973 امریکی ڈالر کے قریب تجارت کر رہی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اس میں تقریباً 8.98 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جو کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔
بٹ کوائن دنیا کی سب سے معروف اور قیمت کے اعتبار سے سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ہے جس نے گزشتہ چند سالوں میں سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم ذریعہ بن کر ابھرے ہیں۔ اس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عموماً عالمی معاشی حالات، حکومتی پالیسیاں، اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی کارکردگی سے متاثر ہوتا ہے۔ بٹ کوائن کی قیمت میں حالیہ کمی کے پیچھے مختلف عوامل کار فرما ہو سکتے ہیں، جن میں عالمی مالی منڈیوں کا عدم استحکام، ریگولیٹری خدشات، اور سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کمانے کی کوششیں شامل ہیں۔
یہ کمی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کمزور کر سکتی ہے اور ممکنہ طور پر دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کی قیمت میں اس طرح کی اتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے اور سرمایہ کاروں کو طویل مدتی نقطہ نظر اختیار کرنا چاہیے۔ تاہم، اگر قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آئی تو یہ مارکیٹ کے لیے تشویش کی بات ہو سکتی ہے۔
مستقبل میں بٹ کوائن کی قیمت کا انحصار عالمی معیشت میں استحکام، کرپٹو کرنسی کے حوالے سے حکومتی ضوابط، اور تکنیکی بہتریوں پر ہوگا۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ مارکیٹ کے رجحانات پر نظر رکھیں اور محتاط انداز میں فیصلے کریں تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے