بٹ کوائن کی قیمت میں حالیہ تیزی سے کمی دیکھی گئی ہے جس کے باعث اس کی قیمت 67,000 امریکی ڈالر کی اہم حد سے نیچے آ گئی ہے۔ مارکیٹ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، بٹ کوائن کا ایک یونٹ اب تقریباً 66,985 امریکی ڈالر پر ٹریڈ ہو رہا ہے، جو گزشتہ 24 گھنٹوں میں تقریباً 10.31 فیصد کی کمی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ کمی سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ بٹ کوائن دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ معروف کرپٹو کرنسی ہے۔
بٹ کوائن کو پہلی بار 2009 میں متعارف کرایا گیا تھا اور تب سے یہ کرپٹو کرنسی کی دنیا میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ عام بات ہے کیونکہ یہ زیادہ تر عالمی مالیاتی بازاروں، ٹیکنالوجیکل اپڈیٹس اور ریگولیٹری تبدیلیوں سے متاثر ہوتی ہے۔ حالیہ کمی ممکنہ طور پر مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال یا دیگر مالیاتی عوامل کی وجہ سے ہوئی ہے۔
بٹ کوائن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ نا صرف سرمایہ کاروں کے منافع و نقصان پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ اس سے وسیع مالیاتی منڈیوں پر بھی اثر پڑتا ہے، کیونکہ کرپٹو کرنسیز اب روایتی مالیاتی نظام کا ایک اہم حصہ بن چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر قیمت میں یہ کمی جاری رہی تو سرمایہ کار اپنی حکمت عملیوں پر نظر ثانی کر سکتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اسے خریداری کا موقع بھی سمجھ سکتے ہیں۔
بٹ کوائن کے علاوہ دیگر کرپٹو کرنسیز بھی عام طور پر بٹ کوائن کی قیمت کی حرکات سے متاثر ہوتی ہیں، اس لیے عالمی کرپٹو مارکیٹ کے رجحانات پر گہری نگاہ رکھنا ضروری ہے۔ سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے اور مارکیٹ کی صورتحال کا بغور جائزہ لینے کی ہدایت کی جاتی ہے تاکہ وہ غیر متوقع نقصانات سے بچ سکیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance