امریکی ریگولیٹر نے پیشن گوئی مارکیٹس پر پچھلی پالیسی کو مسترد کر دیا، بائیڈن دور کی کوششیں ختم

زبان کا انتخاب

امریکہ کی کموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن (CFTC) نے پیشن گوئی مارکیٹس کے حوالے سے اپنے متنازعہ قانونی معاملات کو ختم کرتے ہوئے سابقہ بائیڈن انتظامیہ کی پالیسیوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نئے سربراہ نے اس ادارے کی جانب سے گزشتہ برسوں میں کی گئی کوششوں کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد مارکیٹ کے ضوابط میں وضاحت اور احتیاطی تدابیر کو بڑھانا ہے۔
پیش گوئی مارکیٹس وہ پلیٹ فارمز ہوتے ہیں جہاں صارفین سیاسی، مالیاتی یا دیگر واقعات کے نتائج پر شرط لگا سکتے ہیں۔ یہ مارکیٹس بعض اوقات سرمایہ کاری اور تجزیہ کے لیے معلومات فراہم کرتی ہیں لیکن ان پر قانونی اور اخلاقی سوالات بھی اٹھتے رہے ہیں۔ بائیڈن دور میں CFTC نے ان مارکیٹس کو ریگولیٹ کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ انہیں قانونی دائرہ کار میں لایا جا سکے۔
تاہم، نئے کمیشنر کی زیر قیادت اس ادارے نے اس پالیسی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے اسے منسوخ کر دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیشن گوئی مارکیٹس کے حوالے سے جو بھی قواعد و ضوابط بنائے گئے تھے، انہیں دوبارہ غور و خوض کے لیے واپس بھیج دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے فوری اثرات کے طور پر مارکیٹ میں سرگرمیوں میں کچھ غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، اور کمپنیوں کو اپنی حکمت عملیوں پر نظر ثانی کرنا پڑے گی۔
یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں ڈیجیٹل کرنسیوں اور آن لائن تجارتی پلیٹ فارمز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، اور ریگولیٹری ادارے اپنی پالیسیوں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مارکیٹ کی شفافیت اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ آنے والے وقت میں CFTC کی جانب سے ایک نئی اور جامع حکمت عملی متعارف کرائی جا سکتی ہے جو مارکیٹ کی بدلتی نوعیت کے مطابق ہو۔
یہ فیصلہ مارکیٹ کے لیے ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جس میں سرمایہ کاروں اور ریگولیٹرز دونوں کے لیے چیلنجز اور مواقع موجود ہوں گے۔ اس پس منظر میں، مارکیٹ کے شرکاء کو محتاط رہنے اور تازہ ترین پیش رفت پر نظر رکھنے کی ضرورت ہوگی۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش