کیا حکومت بٹ کوائن کو بچا سکتی ہے؟ کانگریس میں خزانہ سیکرٹری کے ساتھ تنازعہ

زبان کا انتخاب

امریکی کانگریس میں حال ہی میں ایک گرم بحث ہوئی جب خزانہ سیکرٹری سکاٹ بیسینٹ اور ایک کانگریس رکن کے درمیان ٹرمپ خاندان کی کرپٹو کمپنی کے حوالے سے سخت مکالمہ سامنے آیا۔ یہ واقعہ کیپیٹل ہل پر ہونے والی سماعت کے دوران پیش آیا جہاں کرپٹو کرنسیز کی قانونی حیثیت اور حکومتی کردار پر سوالات اٹھائے گئے۔
ٹرمپ خاندان کی کرپٹو کمپنی نے حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی ہے، کیونکہ کرپٹو کرنسیز کی دنیا میں حکومتوں کے کردار کے بارے میں مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیز نے مالیاتی نظام میں تبدیلی کی صورت میں ایک نیا انقلاب برپا کیا ہے، لیکن ان کی غیر یقینی نوعیت اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے کئی بار سوالات کو جنم دیا ہے کہ کیا حکومت کو کرپٹو مارکیٹ میں مداخلت کرنی چاہیے یا نہیں۔
اس تنازعے کے دوران، کانگریس رکن نے پوچھا کہ کیا حکومت بٹ کوائن جیسے کرپٹو اثاثوں کو “بےل آؤٹ” کر سکتی ہے، یعنی مالی مدد فراہم کر کے مارکیٹ کو مستحکم کر سکتی ہے۔ خزانہ سیکرٹری نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کرپٹو کرنسیز کے حوالے سے موجودہ پالیسیوں اور ان کے مالیاتی نظام پر اثرات پر زور دیا، لیکن اس دوران بحث اتنی تیز ہو گئی کہ دونوں کے درمیان تکرار بھی ہوئی۔
کرپٹو کرنسیز کے حوالے سے حکومتوں کی پالیسیز دنیا بھر میں مختلف ہیں۔ کچھ ممالک نے ان پر مکمل پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جبکہ دیگر نے انہیں مالیاتی نظام کا حصہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ امریکہ میں بھی اس حوالے سے قوانین بنائے جا رہے ہیں تاکہ مالیاتی استحکام اور صارفین کے حقوق کی حفاظت کی جا سکے۔
یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کرپٹو کرنسیز کی دنیا میں حکومتی کردار اور اس کے ممکنہ اقدامات پر ابھی بھی کافی غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔ مستقبل میں ممکن ہے کہ امریکی حکومت کرپٹو کرنسیز کی نگرانی بڑھائے یا مارکیٹ کے استحکام کے لیے نئے اقدامات کرے، لیکن اس شعبے میں مکمل شفافیت اور قانونی فریم ورک کا قیام ضروری ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش