ایتھیریم کے بانی ویٹالک بیوٹرن نے لیئر-2 حل کے حوالے سے اہم انتباہ جاری کیا ہے جس میں انہوں نے اس ٹیکنالوجی کی ترقی کے ممکنہ چیلنجز اور خطرات کی جانب توجہ دلائی ہے۔ لیئر-2 ٹیکنالوجیز ایسی اضافی پرتیں ہیں جو بلاک چین نیٹ ورک کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، خاص طور پر اتھریم بلاک چین پر جہاں اس کی مدد سے ٹرانزیکشن کی رفتار اور لاگت میں بہتری آتی ہے۔
ویٹالک نے کہا ہے کہ اگرچہ لیئر-2 کا روڈ میپ اتھریم نیٹ ورک کی اسکالابیلیٹی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے، تاہم اس کی پیچیدگیاں اور ممکنہ تکنیکی رکاوٹیں سمجھنے اور حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس مرحلے پر غیر محتاط منصوبہ بندی اور عمل درآمد سے نیٹ ورک کی سلامتی اور استحکام کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
ایتھیریم کی بنیاد رکھنے والے ادارے، ایتھیریم فاؤنڈیشن، اس وقت کوانٹم کمپیوٹنگ جیسے جدید تکنیکی خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی سرگرم ہیں تاکہ مستقبل میں نیٹ ورک کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، بٹ کوائن مائنرز کے لیے ایک اوپن سورس متبادل بھی متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ کرپٹو کرنسی کی مائننگ کو مزید شفاف اور موثر بنایا جا سکے۔
کریپٹو مارکیٹ میں نئی پیش رفت کے طور پر، XRP کے لیے ایک نیا لینڈنگ پروٹوکول بھی متعارف کرایا گیا ہے جو اس کرپٹو کرنسی کی مالیاتی خدمات میں توسیع کا باعث بنے گا۔ اس طرح کی ترقیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلاک چین اور کرپٹو کرنسی کے میدان میں مسلسل جدت اور وسعت جاری ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ تکنیکی اور سیکیورٹی کے مسائل پر بھی مکمل توجہ دینا ضروری ہے۔
آئندہ، لیئر-2 پروجیکٹس کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ کس طرح تکنیکی چیلنجز کو حل کیا جاتا ہے اور نیٹ ورک کی حفاظت کو یقینی بنایا جاتا ہے، ورنہ یہ جدید حل اپنی مقبولیت کھو سکتے ہیں یا نیٹ ورک پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk