یورپی یونین کی جانب سے کرپٹو اور ڈیجیٹل اثاثوں کے حوالے سے واضح اور جامع ضوابط متعارف کرانے کی حکمت عملی ٹوکنائزڈ مارکیٹس کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس پیش رفت سے یورپ میں ڈیجیٹل اثاثوں کی تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ ٹوکنائزیشن کا مطلب ہے کہ روایتی مالیاتی اثاثوں جیسے رئیل اسٹیٹ، حصص یا بانڈز کو بلاک چین ٹیکنالوجی پر مبنی ڈیجیٹل ٹوکنز کی صورت میں تبدیل کرنا، جس سے ان کی خرید و فروخت اور منتقلی آسان اور شفاف ہو جاتی ہے۔
اس ہفتے جاری ہونے والی ایک مالیاتی نیوز لیٹر میں، کرپٹو تجزیہ کار لوکاس اینزرزدورفر-کنراڈ نے یورپی یونین کی ریگولیٹری وضاحت کو ٹوکنائزڈ مارکیٹس کے تیزی سے بڑھنے کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جب حکومتی قواعد و ضوابط واضح ہوں گے تو سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور مزید کمپنیاں اس شعبے میں سرمایہ کاری کریں گی۔ اس کے علاوہ، اینڈی بیئر نے اس موقع پر بائننس کو بھی کرپٹو مارکیٹ میں اپنی پیش رفت کے لیے تیار رہنے کی تلقین کی ہے۔
ٹوکنائزیشن کے ذریعے مالیاتی خدمات کو زیادہ شفاف، محفوظ اور کم خرچ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ عمل خاص طور پر یورپ جیسے خطے میں اہمیت رکھتا ہے جہاں روایتی مالیاتی نظام، قانونی پیچیدگیوں اور محدود رسائی کی وجہ سے کئی مواقع ضائع ہو جاتے ہیں۔ یورپی یونین کی جانب سے اس شعبے کی باقاعدہ نگرانی اور ضابطہ بندی سے اس بات کا امکان ہے کہ وہ عالمی ڈیجیٹل مالیاتی مارکیٹ میں نمایاں مقام حاصل کر سکے۔
تاہم، اس کے ساتھ کچھ خطرات بھی وابستہ ہیں، جیسے کہ ٹیکنالوجی کی پیچیدگیاں، سائبر سکیورٹی کے مسائل اور عالمی مالیاتی قوانین میں ہم آہنگی کی ضرورت۔ مستقبل میں، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یورپ کس طرح اپنی ریگولیٹری فریم ورک کو بہتر بنا کر ٹوکنائزڈ مارکیٹس کو فروغ دیتا ہے اور کیا یہ عالمی سطح پر کرپٹو کرنسیز کے استعمال میں نئی لہر کا باعث بنے گا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk