سوئٹزرلینڈ کی معروف بینکاری کمپنی یو بی ایس گروپ اے جی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے انفرادی صارفین کو بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ڈیجیٹل اثاثوں کے انفراسٹرکچر کی تیاری کر رہا ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سرجیو ارموتی نے اپنی حالیہ مالیاتی رپورٹ کے دوران بتایا کہ وہ ڈیجیٹل اثاثوں کی خدمات کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کر رہے ہیں اور مختلف ہدفی مصنوعات کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں، جن میں امیر صارفین کے لیے کرپٹو تک رسائی اور کاروباری صارفین کے لیے ٹوکنائزڈ ڈپازٹ حل شامل ہیں۔
یو بی ایس اپنی روایتی بینکاری خدمات کے ساتھ ساتھ آئندہ تین سے پانچ سالوں میں ٹوکنائزڈ اثاثوں کی دنیا میں قدم بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے، مگر کمپنی بلاک چین ٹیکنالوجی میں پہلا قدم اٹھانے کے بجائے ایک “فاسٹ فالوور” کی حکمت عملی اپنانے پر یقین رکھتی ہے۔ یہ حکمت عملی کمپنی کو محتاط انداز میں کرپٹو کرنسیوں کی دنیا میں داخل ہونے کی اجازت دے گی۔
یو بی ایس کی یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر کے کئی بڑے بینک بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل کرپٹوز کو اپنے صارفین کے لیے پیش کرنے لگے ہیں۔ مثال کے طور پر، جرمنی کا ڈی زی بینک اور سپارکاسن فنانز گروپ اب کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ کی خدمات فراہم کرنے جا رہے ہیں، جبکہ ING جرمنی نے بھی اپنے ریٹیل صارفین کو کرپٹو سے منسلک مالیاتی مصنوعات کی پیشکش شروع کر دی ہے۔
یو بی ایس کی جانب سے کرپٹو ٹیکنالوجی کی جانب یہ قدم عالمی بینکاری شعبے میں روایتی اور ڈیجیٹل اثاثوں کے امتزاج کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ بینکوں نے اب تک کرپٹو کرنسیوں میں سرمایہ کاری اور تجارت میں احتیاط برتی ہے، مگر بڑھتی ہوئی مارکیٹ کی طلب اور تکنیکی ترقی انہیں اس شعبے میں زیادہ فعال بنانے پر مجبور کر رہی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ یو بی ایس کس طرح اپنے صارفین کو کرپٹو کرنسیوں کے لیے محفوظ اور مؤثر خدمات فراہم کرتا ہے اور کیا یہ اقدام دیگر بینکوں کے لیے بھی ایک مثال ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine