1971 کے بعد سونے کی کارکردگی کا تجزیہ، سرمایہ کاروں کے لیے چیلنجز کی نشاندہی

زبان کا انتخاب

1971 سے لے کر اب تک سونے کی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد نے مختلف ادوار میں منافع کے ساتھ ساتھ نقصان کا بھی سامنا کیا ہے۔ معروف کرپٹو تجزیہ کار بل چیان نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس عرصے میں سونا 40 فیصد سالوں میں نقصان میں رہا۔ اگر نقصان کی شدت کو منافع کے مقابلے میں دوگنا تصور کیا جائے تو نقصان کی مجموعی قدر 80 فیصد بنتی ہے، جو کہ 40 فیصد کو دو سے ضرب دینے سے حاصل ہوئی ہے۔ دوسری جانب، منافع بخش سالوں کی تعداد 60 فیصد ہے جس سے خوشی کی قدر بھی 60 فیصد بنتی ہے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 1971 سے لے کر آج تک سونا رکھنے والے سرمایہ کاروں کی مجموعی جذباتی اور مالی کیفیت میں نقصان کا پہلو غالب رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طویل مدتی سرمایہ کاری کے باوجود، سونا ہر سال منافع بخش نہیں رہا اور خسارے کے سالوں کی شدت نے سرمایہ کاروں کو ذہنی اور مالی طور پر متاثر کیا ہے۔
سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی یہ صورتحال کئی وجوہات کی بنا پر سامنے آئی ہے جن میں عالمی معاشی حالات، امریکی ڈالر کی قدر میں تبدیلی، سیاسی افراتفری، اور عالمی سطح پر مالیاتی پالیسیاں شامل ہیں۔ 1971 میں یو ایس حکومت نے گولڈ سٹینڈرڈ ختم کیا تھا، جس کے بعد سونے کی قیمتیں آزادانہ طور پر مارکیٹ کی قوتوں کے مطابق طے ہونے لگیں، اور یہ وقت سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا آغاز تھا۔
سرمایہ کاروں کے لیے یہ جاننا اہم ہے کہ سونا ہمیشہ محفوظ پناہ گاہ نہیں رہا بلکہ اس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے بعض اوقات انہیں نقصان میں بھی ڈال دیا ہے۔ آئندہ کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہوگا کہ سونا ایک متنوع سرمایہ کاری کے حصے کے طور پر دیکھا جائے، تاکہ مارکیٹ کے مختلف حالات میں خطرات کو کم کیا جا سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے