نیو یارک میں منعقدہ اونڈو سمٹ میں بڑے اثاثہ منیجرز نے کہا کہ ٹوکنائزیشن نظریے سے آگے بڑھ چکی ہے، لیکن اعتماد، تعلیم اور حقیقی دنیا میں اس کی افادیت سب سے بڑے چیلنجز ہیں۔ ٹوکنائزیشن کا مطلب ہے کہ روایتی مالی اثاثوں کو ڈیجیٹل ٹوکنز کی شکل میں تبدیل کرنا، جس سے سرمایہ کاری اور لین دین آسان اور شفاف ہو جاتے ہیں۔
فرینکلن ٹیمپلٹن جیسے عالمی سرمایہ کاری ادارے اس ٹیکنالوجی کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں کہ مستقبل میں ڈیجیٹل والیٹس لوگوں کے مالی اثاثوں کا مکمل ذخیرہ بن جائیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ بینک اکاؤنٹس، سٹاکس، بانڈز، کرپٹو کرنسیز اور دیگر مالی مصنوعات ڈیجیٹل والٹ میں محفوظ ہو کر فوری اور محفوظ تجارت کے قابل ہو جائیں گی۔
تاہم، اس عمل میں سب سے بڑا مسئلہ صارفین کا اعتماد حاصل کرنا اور انہیں اس جدید نظام کی تعلیم دینا ہے تاکہ وہ اس کی افادیت کو سمجھ سکیں اور اس کا استعمال شروع کر سکیں۔ مزید برآں، حقیقی دنیا میں ان ٹوکنز کے استعمال کی سہولیات کو بڑھانا بھی ضروری ہے تاکہ یہ نظام عام لوگوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے۔
ٹیکنالوجی ماہرین اور مالی ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ ٹوکنائزیشن نے مالیات کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن اس کے لیے قانون سازی، سیکورٹی اور صارفین کی قبولیت کے مسائل کا حل ناگزیر ہے۔ اگر یہ چیلنجز کامیابی سے حل ہو گئے تو ڈیجیٹل والیٹس مستقبل میں مالیاتی نظام کا بنیادی ستون بن جائیں گے۔
یہ پیش رفت اس وقت ہو رہی ہے جب دنیا بھر میں ڈیجیٹل کرنسیز اور بلاک چین ٹیکنالوجی تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں، اور سرمایہ کار روایتی طریقوں سے ہٹ کر جدید ڈیجیٹل اثاثوں کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ اس لیے یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سالوں میں ڈیجیٹل والیٹس کا استعمال عام ہو جائے گا اور مالیاتی مارکیٹس میں ان کا کردار بڑھ جائے گا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk