ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس کرپٹو بل میں صدر پر حملوں کو برداشت نہیں کرے گی، مشیر کا اصرار

زبان کا انتخاب

صدر ٹرمپ کے ڈیجیٹل اثاثوں کے مشیر، پیٹرک وِٹ نے کہا ہے کہ کرپٹو کرنسیز سے متعلق حالیہ قانون سازی میں اگر صدر کے خلاف بدعنوانی کے الزامات شامل کیے گئے تو انہیں قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہ بیان ایسے موقع پر آیا ہے جب امریکی حکومتی حلقے کرپٹو کرنسیز کی نگرانی اور ضابطہ کاری کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کر رہے ہیں۔
کرپٹو کرنسیز کی دنیا میں بڑھتی ہوئی مقبولیت اور مالیاتی مارکیٹ میں ان کی اہمیت کے باعث حکومت نے اس شعبے کو شفاف بنانے اور فراڈ سے بچانے کے لیے قانونی اقدامات کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ تاہم، ٹرمپ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ قانون میں ایسی شقیں شامل نہیں کی جائیں گی جو کسی مخصوص سیاسی شخصیت، خاص طور پر صدر کے خلاف ہدف بنائیں۔
کرپٹو کرنسیز، جیسے کہ بٹ کوائن اور ایتھریم، نے مالیاتی نظام میں انقلاب برپا کیا ہے اور دنیا بھر میں سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی فراڈ، منی لانڈرنگ، اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خدشات بھی سامنے آئے ہیں، جس کی وجہ سے عالمی اور ملکی سطح پر ضابطہ کاری کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
امریکی کانگریس میں کرپٹو کرنسیز کے حوالے سے مختلف بلز زیر بحث ہیں جن میں سرمایہ کاروں کے حقوق کا تحفظ، مالیاتی جرائم سے بچاؤ، اور کرپٹو مارکیٹ کی شفافیت کو یقینی بنانے کی کوششیں شامل ہیں۔ ایسے میں وائٹ ہاؤس کے موقف نے واضع کر دیا ہے کہ قانون سازی میں سیاسی ذاتیات کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔
اگرچہ کرپٹو کرنسیز کی دنیا میں قواعد و ضوابط کا تعین اہم ہے، لیکن سیاسی دباؤ اور ذاتی اہداف کی بنیاد پر قوانین بنانا مستقبل میں قانونی پیچیدگیوں اور سیاسی کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے توقع کی جا رہی ہے کہ قانون ساز ادارے اس معاملے میں اعتدال پسندی کا مظاہرہ کریں گے تاکہ کرپٹو مارکیٹ کے استحکام اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے