ایرانی صدر نے اپنی تازہ ترین ہدایت میں کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات منصفانہ، عزت و وقار اور عملی حکمت کے اصولوں کے تحت کیے جائیں۔ انہوں نے وزیر خارجہ کو اس اہم مشن کی ذمہ داری سونپی ہے تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری لائی جا سکے۔ یہ پیش رفت دوطرفہ تعلقات میں ایک نیا باب کھولنے کا اشارہ ہے۔
ایران اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے کشیدگی کا شکار ہیں، خاص طور پر ایران کی نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے امریکہ نے سخت پابندیاں عائد کی ہیں۔ اس کشیدگی نے خطے میں سیاسی و اقتصادی عدم استحکام کو جنم دیا ہے، جس کی وجہ سے عالمی برادری بھی اس مسئلے کے حل کی خواہشمند ہے۔ اس پس منظر میں ایرانی صدر کی جانب سے امریکہ سے منصفانہ مذاکرات کی ہدایت ایک مثبت قدم تصور کیا جا رہا ہے جو مستقبل میں تعلقات میں نرمی اور تعاون کا باعث بن سکتا ہے۔
ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے اس رویے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ عالمی پابندیوں میں نرمی اور اقتصادی بہتری کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف امریکہ بھی ایران سے اس سلسلے میں واضح اور تعمیری بات چیت کا خواہاں رہا ہے۔ تاہم، مذاکرات کے دوران دونوں فریقین کے مابین اعتماد سازی اور بنیادی اختلافات کا حل ایک چیلنج ہو سکتا ہے۔
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوئے تو خطے میں سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ ناکامی کی صورت میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ عالمی برادری خاص طور پر یورپی یونین اور اقوام متحدہ اس عمل کی حمایت کر رہی ہے تاکہ امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance