نانو لیبز کے سی ای او جیک کانگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک اہم سرمایہ کار لارینٹ زیماس کی حالیہ سرگرمیوں پر روشنی ڈالی ہے، جنہوں نے ایک ہفتہ قبل جب ہائپ (HYPE) ٹوکن کی قیمت 22 ڈالر تک گر گئی تھی، اسے خریدنا شروع کیا تھا۔ زیماس نے اوسطاً ہر ٹوکن 24.36 ڈالر کی قیمت پر حاصل کیے۔ اس وقت ہائپ کی قیمت 38 ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جس سے ان کے 1.478 ملین ٹوکنز پر تقریباً 20 ملین ڈالر کا غیر حقیقی منافع حاصل ہوا ہے۔
زیماس کی مارکیٹ کو وقتی طور پر سمجھ کر بڑے مالی وسائل کے ساتھ سرمایہ کاری کرنا قابلِ توجہ ہے، تاہم ان کے 56 ملین ڈالر مالیت کے اس بڑے پوزیشن کو فروخت کرنے کی صورت میں مارکیٹ کی لیکویڈیٹی پر منفی اثرات کے خدشات بھی موجود ہیں۔ اس بات کا تعین کرنا مشکل ہے کہ مارکیٹ اتنی بڑی فروخت کو بغیر کسی نمایاں خلل کے جذب کر پائے گی یا نہیں۔
ہائپ ایک معروف ڈیجیٹل کرپٹو ٹوکن ہے جو مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر تجارت کے لیے استعمال ہوتا ہے اور گزشتہ برسوں میں کریپٹو کرنسیز کی بڑھتی مقبولیت کے پیش نظر اس کی قدر میں کافی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ کریپٹو مارکیٹ کی غیر مستحکم نوعیت سرمایہ کاروں کے لیے ہمیشہ خطرات رکھتی ہے، خاص طور پر جب کسی واحد سرمایہ کار کے پاس اس قدر بڑی مقدار میں ٹوکنز موجود ہوں۔
اگر زیماس اپنی پوزیشن کو فروخت کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس سے مارکیٹ کی قیمتوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، جس سے دوسرے سرمایہ کاروں کی دلچسپی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے مارکیٹ کے شرکاء اور تجزیہ کار اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance