بٹ کوائن نے گزشتہ تیس دنوں میں تقریباً 13 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی ہے، جس کے باعث تجزیاتی چارٹس میں خبردار کرنے والے سگنلز ظاہر ہو رہے ہیں۔ یہ کمی کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے اور سرمایہ کاروں میں خوف کی فضا قائم کر دی ہے۔ بٹ کوائن، جو دنیا کی سب سے معروف اور قدیم کریپٹو کرنسی ہے، اپنی قیمت میں اتار چڑھاؤ کے لیے مشہور ہے، لیکن حالیہ گراوٹ نے مارکیٹ میں تشویش بڑھا دی ہے۔
بٹ کوائن کی قیمت میں یہ کمی متعدد عوامل کی وجہ سے ہوئی ہے جن میں عالمی معاشی بے یقینی، حکومتی پالیسیوں میں تبدیلیاں، اور سرمایہ کاروں کی جانب سے محتاط رویہ شامل ہیں۔ عام طور پر جب بٹ کوائن کی قیمت میں تیزی سے کمی آتی ہے تو اس سے مارکیٹ میں خوف کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جسے “ایکسٹریم فیئر” یا شدید خوف کہا جاتا ہے۔ یہ کیفیت سرمایہ کاروں کو جلد بازی میں فیصلہ کرنے پر مجبور کر سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
بٹ کوائن کی قیمت کے مستقبل کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ مزید گراوٹ کا امکان موجود ہے مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس کی قیمت کسی حد تک مستحکم ہو کر دوبارہ اوپر بھی جا سکتی ہے۔ کرپٹو مارکیٹ کی غیر مستحکم نوعیت کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور اچانک فیصلے کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
کرپٹو کرنسیز کی عالمی مارکیٹ میں بٹ کوائن کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کا اثر دیگر کرپٹو کرنسیز پر بھی پڑتا ہے۔ اس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو اپنی سرمایہ کاری کی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی چاہیے تاکہ وہ مارکیٹ کی موجودہ صورتحال میں محفوظ رہ سکیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt