بٹ کوائن مزید گراوٹ کا شکار ہوسکتا ہے، تاریخی ڈیٹا کے مطابق 60,000 ڈالر انتہائی حد ہوگی

زبان کا انتخاب

کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی قیمت میں مزید کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جہاں تاریخی اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ بٹ کوائن نے ماضی میں بیئر مارکیٹ کے دوران اپنی حمایت عام طور پر 200 ہفتوں کی موونگ ایوریج پر حاصل کی ہے۔ یہ سطح مارکیٹ کے لیے ایک اہم کفیل کی حیثیت رکھتی ہے جہاں قیمت گرنے کے باوجود استحکام آجاتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی بٹ کوائن کی قیمت اسی سطح پر پہنچنے کا امکان ہے جو کہ تقریباً 60,000 ڈالر کے قریب ہے۔
بٹ کوائن دنیا کی پہلی اور سب سے مشہور ڈیجیٹل کرپٹو کرنسی ہے جسے 2009 میں متعارف کرایا گیا تھا۔ اس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ مارکیٹ کی مجموعی صورتحال اور عالمی مالیاتی حالات پر منحصر ہوتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں، بٹ کوائن نے کئی بار تاریخی بل مارکیٹس اور بیئر مارکیٹس دیکھی ہیں، جہاں قیمتوں میں شدید کمی کے باوجود 200 ہفتوں کی موونگ ایوریج نے ایک مضبوط حمایتی لائن فراہم کی ہے۔
کرپٹو کرنسی مارکیٹ کی غیر یقینی نوعیت کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ غیر متوقع اور فوری ہو سکتا ہے۔ اگر بٹ کوائن کی قیمت 60,000 ڈالر کی سطح سے نیچے گرتی ہے تو یہ مارکیٹ میں مزید مندی کی علامت ہو سکتی ہے، لیکن اس سطح سے نیچے گرنا غیر معمولی اور کم دیکھنے میں آیا ہے۔
مستقبل میں، بٹ کوائن کی قیمت کی سمت عالمی اقتصادی حالات، سرمایہ کاری کے رجحانات اور کرپٹو کرنسی کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں پر منحصر ہوگی۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ مارکیٹ کی تکنیکی اور بنیادی صورت حال کا بغور جائزہ لیں تاکہ بہتر فیصلے کیے جا سکیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش