وائٹ ہاؤس میں کرپٹو کرنسیز کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ہوا جس میں صنعت کے ماہرین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے رکن ڈیوڈ سیکس کے ساتھ شرکت کی۔ اس ملاقات کا مقصد سینیٹ میں زیر غور کرپٹو کرنسی بل کے حوالے سے پیدا ہونے والے اختلافات اور مسائل پر بات چیت کرنا تھا، خاص طور پر اس بل میں شامل مستحکم کوائنز (Stablecoins) کے منافع کے نظام کو لے کر۔
مستحکم کوائنز ایسے ڈیجیٹل اثاثے ہوتے ہیں جن کی قیمت کسی مستحکم اثاثے جیسے امریکی ڈالر سے منسلک ہوتی ہے، اور یہ کرپٹو مارکیٹ میں استحکام فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم، مستحکم کوائنز سے حاصل ہونے والے منافع یا ییلڈ کا طریقہ کار قانون سازی کے لیے ایک پیچیدہ مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اس نشست میں مختلف اسٹیک ہولڈرز نے اپنی رائے دی مگر فوری طور پر کوئی جامع حل سامنے نہیں آ سکا۔
کرپٹو کرنسیز کی دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور حکومتیں اس کے لیے قواعد و ضوابط وضع کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کے حقوق محفوظ ہوں اور مالیاتی نظام میں شفافیت آئے۔ امریکی سینیٹ میں موجود بل کا مقصد بھی کرپٹو مارکیٹ کو منظم اور محفوظ بنانا ہے، لیکن مستحکم کوائنز کے منافع کی قانونی حیثیت اور اس کی نگرانی کے حوالے سے ابھی تک واضح پالیسی نہیں بنی۔
یہ صورت حال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کرپٹو کرنسیز کی تنظیم نو کے لیے قانونی اور تکنیکی چیلنجز ابھی باقی ہیں۔ آئندہ مزید اجلاس اور مذاکرات ہوں گے تاکہ اس پیچیدہ مسئلے کا کوئی قابل عمل حل تلاش کیا جا سکے اور کرپٹو مارکیٹ کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk