معروف مالی تجزیہ کار جم کریمر نے حالیہ ہفتہ وار اتار چڑھاؤ کے بعد بٹ کوائن کی “غیر معتبر” حیثیت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ گزشتہ دنوں کرپٹو مارکیٹ میں تیزی کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں اچانک گراوٹ دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں اس کی قیمت تقریباً 74,000 امریکی ڈالر تک گر گئی۔ کریمر نے اس صورتحال کو بٹ کوائن کے قلیل مدتی کرنسی کے طور پر استعمال پر سوالیہ نشان قرار دیا ہے۔
بٹ کوائن، جو کہ دنیا کی سب سے مشہور اور قدیم ڈیجیٹل کرپٹو کرنسی ہے، سرمایہ کاروں کے لیے ایک متحرک مگر غیر یقینی اثاثہ رہا ہے۔ اس کی قیمت میں تیزی سے اتار چڑھاؤ عام بات ہے، جس کی وجہ سے اسے بعض ماہرین قلیل مدتی لین دین کے لیے غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ کریمر کی تنقید اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بٹ کوائن کی قیمت میں اس قسم کی تبدیلیاں سرمایہ کاروں کو محتاط بناتی ہیں، خاص طور پر جب مارکیٹ کی صورتحال غیر مستحکم ہو۔
کرپٹو کرنسیز کی دنیا میں بٹ کوائن کی پوزیشن ہمیشہ ہی نمایاں رہی ہے، کیونکہ یہ دیگر ورچوئل کرنسیوں کے لیے معیار کا کام دیتی ہے۔ تاہم، حالیہ مارکیٹ کی تبدیلیوں نے سرمایہ کاروں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا بٹ کوائن واقعی ایک مستحکم کرنسی کے طور پر کام کر سکتا ہے یا یہ محض ایک قلیل مدتی سرمایہ کاری کا ذریعہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ کی اس طرح کی غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاروں کے لیے خطرہ بھی پیدا کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، عالمی مالیاتی حالات اور حکومتی پالیسیاں بھی بٹ کوائن کی قیمت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ آئندہ کے دنوں میں سرمایہ کار اور تجزیہ کار اس بات پر نظر رکھیں گے کہ کیا بٹ کوائن مارکیٹ میں دوبارہ استحکام آتا ہے یا قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ جاری رہتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk