یورپی بانڈ مارکیٹ نے ییلڈ کرِو کے تیز اور زیادہ ڈھلوان دار ہونے کے ساتھ ایک نئے دور میں قدم رکھ دیا ہے۔ نیوبرگر برمن کے پورٹ فولیو مینیجر پیٹرک باربے کے مطابق، طویل مدتی اور قلیل مدتی بانڈز کے درمیان فرق میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو گزشتہ دس سالوں کے دوران کم یا تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ اس تبدیلی سے سرمایہ کاروں کو ان کے بانڈ ہولڈنگ پیریڈ اور دورانیہ کے خطرات کے عوض واضح معاوضہ ملنا شروع ہو گیا ہے۔
یوروزون میں دو سالہ بانڈز پر ییلڈ دو فیصد سے کچھ زائد ہے جبکہ جرمنی کے 10 سالہ بانڈ کی ییلڈ تقریباً دو اعشاریہ آٹھ تین فیصد اور فرانس کی 10 سالہ ییلڈ تین اعشاریہ چار دو فیصد کے قریب ہے۔ اسی طرح، 30 سالہ بانڈز کی ییلڈ جرمنی میں تین اعشاریہ چار آٹھ فیصد جبکہ فرانس میں چار اعشاریہ تین چھ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سرمایہ کاروں کو طویل مدتی بانڈز رکھنے پر زیادہ منافع کی توقع ہے، جو کہ ماضی کی نسبت ایک اہم مالی رجحان ہے۔
بانڈ مارکیٹ کی یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی ہے جب عالمی معیشت مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، جس میں افراط زر، مرکزی بینکوں کی شرح سود میں تبدیلیاں، اور جیوپولیٹیکل کشیدگیاں شامل ہیں۔ ییلڈ کرِو کا ڈھلوان دار ہونا عام طور پر معاشی ترقی کی مضبوطی یا شرح سود میں مستقبل کے اضافے کی توقع کی علامت ہوتا ہے، جس سے سرمایہ کار طویل مدتی سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔
یورپی بانڈ مارکیٹ کی یہ نئی صورتحال مالیاتی اداروں، سرمایہ کاروں اور حکومتوں کے لیے اہم ہے کیونکہ یہ مارکیٹ کی سمت اور معاشی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ آئندہ عرصے میں، سرمایہ کاروں کو بانڈز کی ییلڈ میں ممکنہ اتار چڑھاؤ اور عالمی اقتصادی حالات کو قریب سے دیکھنا ہوگا تاکہ اپنی سرمایہ کاری کے فیصلے بہتر بنا سکیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance