بٹ مائن، جو ایک خزانے کی کمپنی ہے اور مرکزی طور پر ای تھیریم میں سرمایہ کاری کرتی ہے، ممکنہ طور پر 6.6 بلین ڈالر کے نقصان کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ نقصان چین کیچَر کی رپورٹ کے مطابق ہو سکتا ہے اور اگر یہ حقیقت میں سامنے آتا ہے تو یہ عالمی مالیاتی مارکیٹ کی تاریخ میں پانچواں سب سے بڑا خودمختار تجارتی نقصان ہوگا۔
ای تھیریم، جو کہ بٹ کوائن کے بعد سب سے معروف اور وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی کرپٹو کرنسی ہے، ڈی سینٹرلائزڈ ایپلیکیشنز اور اسمارٹ کنٹریکٹس کی بنیاد ہے۔ بٹ مائن کی یہ کمپنی بڑی مقدار میں ای تھیریم کے ذخائر رکھتی ہے اور ان کی قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ اس نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
گزشتہ دہائی میں مالیاتی بازاروں میں بڑے تجارتی نقصانات کی مثالوں میں 2021 میں آرکیگوس کیپیٹل مینجمنٹ کا تقریباً 10 بلین ڈالر کا نقصان نمایاں ہے، جو کمپنی کے حجم کا 66 فیصد تھا اور اب تک کا سب سے بڑا ریکارڈ شدہ نقصان ہے۔ ایسے نقصانات عموماً مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال، سرمایہ کاری کی غلط حکمت عملی، اور لیکویڈیٹی کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں۔
بٹ مائن کے اس ممکنہ نقصان کے مالیاتی اثرات اور کمپنی کی آئندہ حکمت عملی پر نظر رکھی جا رہی ہے، کیونکہ اس قسم کے بڑے نقصانات کمپنیوں کے آپریشنز اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔ عالمی کرپٹو مارکیٹ کی غیر مستحکم صورتحال کو دیکھتے ہوئے، ایسے واقعات سرمایہ کاروں کے لیے خبردار کرنے کا باعث بھی بن سکتے ہیں کہ وہ اپنی سرمایہ کاری کے خطرات کا بغور جائزہ لیں۔
کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ عام بات ہے، اور بڑی سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کے لیے منظم رسک مینجمنٹ انتہائی ضروری ہے تاکہ ممکنہ نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ بٹ مائن کی صورتحال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کرپٹو مارکیٹ میں سرمایہ کاری ہمیشہ خیرمقدمی مواقع کے ساتھ ساتھ خطرات بھی رکھتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance