بٹ کوائن کی قیمت 80,000 امریکی ڈالر کی سطح سے نیچے مستحکم رہی، جبکہ جنوری کے اختیاراتی مارکیٹ میں متوقع پیش گوئیوں میں لیکویڈیشن کی وجہ سے شدید کمی نہیں دیکھی گئی۔ اختیاراتی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں نے بڑھتے ہوئے خطرات کا اشارہ دیا ہے، تاہم جنوری کے مہینے کے لیے بٹ کوائن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کی پیش گوئی میں تبدیلیاں آہستہ آہستہ ہوئی ہیں۔
اختیاراتی مارکیٹ وہ جگہ ہے جہاں سرمایہ کار مستقبل میں کسی اثاثے کی قیمت کے حوالے سے اپنی شرط لگاتے ہیں، اور لیکویڈیشن کا مطلب ہوتا ہے کہ جب مارکیٹ کی غیر متوقع حرکتوں کی وجہ سے سرمایہ کاروں کی پوزیشنز خود بخود بند ہو جاتی ہیں، جس سے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں لیکویڈیشن میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو خطرے کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود جنوری میں بٹ کوائن کی قیمت کی پیشن گوئی میں نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔
بٹ کوائن ڈیجیٹل کرنسی کی دنیا میں سب سے زیادہ مقبول اور قیمتی کرپٹوکرنسی ہے، جس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ عالمی مالیاتی منڈیوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں بٹ کوائن نے کئی بار بلند ترین سطحیں چھوئیں، لیکن اس کے ساتھ ہی قیمت میں غیر متوقع کمی بھی ہوئی ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کار محتاط ہو گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال اور بٹ کوائن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ مستقبل قریب میں بھی جاری رہ سکتا ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں کو اپنی سرمایہ کاری میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ اگر لیکویڈیشن کی شرح میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کا اثر مارکیٹ کی مجموعی صحت پر پڑ سکتا ہے اور قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ ممکن ہے۔
اس صورتحال میں سرمایہ کاروں اور مارکیٹ تجزیہ کاروں کی نظر بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں پر مرکوز ہے تاکہ وہ بہتر فیصلے کر سکیں اور ممکنہ خطرات سے بچ سکیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk