بٹ کوائن کی قیمت 75 ہزار ڈالر سے تجاوز، کمزور لیکویڈیٹی کے باعث تاجر محتاط

زبان کا انتخاب

بٹ کوائن کی قیمت میں معمولی کمی کے بعد اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا اور اس نے 75 ہزار ڈالر کی اہم حد کو عبور کر لیا ہے۔ مارکیٹ میں یہ اتار چڑھاؤ اس وقت سامنے آیا جب چین کی صنعتی پیداوار کے اعداد و شمار میں معمولی بہتری دیکھی گئی، جو قیمت کو پس پشت دھکیلنے کے بجائے ایک حد تک سہارا فراہم کرنے کا باعث بنی۔ تاہم، عالمی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی مضبوطی اور کرپٹو کرنسی کے تبادلے کی کمزور لیکویڈیٹی نے اس اضافے کو محدود رکھا ہے۔
بٹ کوائن عالمی سطح پر سب سے زیادہ مقبول اور قیمتی ڈیجیٹل کرنسی ہے، جس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ عموماً مالی منڈیوں میں بے یقینی اور سرمایہ کاروں کی جذباتی کیفیت کی عکاسی کرتا ہے۔ کم لیکویڈیٹی کا مطلب یہ ہے کہ مارکیٹ میں خرید و فروخت کرنے والوں کی تعداد کم ہے، جس کی وجہ سے قیمت میں اچانک اور بڑے پیمانے پر تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔ اس صورتحال میں تاجر زیادہ محتاط رویہ اختیار کرتے ہیں تاکہ غیر متوقع نقصانات سے بچا جا سکے۔
چین کی صنعتی سرگرمیوں میں معمولی اضافہ عالمی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور اس کے صنعتی اعداد و شمار دیگر ممالک کی مارکیٹوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تاہم، امریکی ڈالر کی مضبوطی کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں پر دباؤ ڈالتی ہے کیونکہ ڈالر کی قدر میں اضافہ عام طور پر دیگر کرنسیوں کی قدر کو کمزور کر دیتا ہے۔
آئندہ کے لیے مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بٹ کوائن کی قیمت عارضی طور پر بہتر ہوئی ہے، مگر کمزور لیکویڈیٹی اور عالمی معیشت کی غیر یقینی صورتحال کے سبب قیمت میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان موجود ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ محتاط رہیں اور مکمل تحقیق کے بعد ہی لین دین کریں تاکہ غیر متوقع مالی نقصانات سے بچا جا سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے