امریکی سینیٹر الزبتھ وارن نے متحدہ عرب امارات کے انٹیلی جنس چیف کے امریکی کرپٹو کرنسی منصوبے میں خفیہ سرمایہ کاری کے انکشاف کے بعد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب رپورٹوں میں متحدہ عرب امارات کے ایک اعلیٰ انٹیلی جنس افسر کو ایک امریکی کرپٹو وینچر میں خفیہ سرمایہ کاری سے جوڑا گیا، جس پر سینیٹر وارن نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں سرمایہ کاری اور مالیاتی شفافیت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر، یہ معاملہ خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی صورت میں شفافیت نہ ہونے اور ممکنہ طور پر غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مداخلت کے امکانات پر تشویش پائی جاتی ہے۔ اس قسم کی خفیہ سرمایہ کاری امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کی جا سکتی ہے، خاص طور پر جب کہ کرپٹو کرنسی کی فیلڈ عالمی مالیاتی نظام میں تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس کے اثرات وسیع ہیں۔
کرپٹو مارکیٹس میں سرمایہ کاری عام طور پر بلاک چین ٹیکنالوجی پر مبنی ہوتی ہے، جس میں ہر لین دین کا ریکارڈ شفاف اور محفوظ ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود خفیہ سرمایہ کاری اور غیر قانونی سرگرمیوں کے امکانات کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا جا سکتا۔ امریکی قانون ساز اداروں کے لیے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ ایسے معاملات کی تحقیقات کریں تاکہ مالیاتی نظام کی سالمیت برقرار رہے اور قومی سلامتی کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔
اس سلسلے میں ممکنہ تحقیقات سے یہ معلوم ہو سکے گا کہ آیا واقعی کوئی غیر قانونی یا مشکوک سرگرمی ہوئی ہے یا نہیں۔ اگر انویسٹی گیشن میں کسی قسم کی خلاف ورزی سامنے آئی تو اس کے قانونی اور سیاسی نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔ اس معاملے نے امریکی سیاست اور کرپٹو کرنسی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کر دیا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk