رفح بارڈر کراسنگ کا تجرباتی افتتاح، مکمل کھولنے کی تیاری

زبان کا انتخاب

رفح کراسنگ جو غزہ اور مصر کے درمیان سرحد پر واقع ہے، یکم فروری کو تجرباتی طور پر کھول دیا گیا ہے۔ یہ اقدام تکنیکی اور حفاظتی نظاموں کی جانچ کے لیے کیا گیا ہے جس میں محدود تعداد میں افراد کو عبور کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کراسنگ کو دو طرفہ پیدل گزرگاہ کے لیے دو فروری سے مکمل طور پر کھولنے کی توقع ہے۔
اس موقع پر ایک مشترکہ نگرانی ٹیم موجود ہے جس میں مصری نمائندے، یورپی یونین کے مبصرین اور متعلقہ اسرائیلی حکام شامل ہیں۔ یہ ٹیم شناخت کی تصدیق اور حفاظتی نظاموں کی درستگی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ابتدائی طور پر، رفح کراسنگ سے محدود تعداد میں لوگوں کو پیدل گزرنے کی اجازت دی جائے گی، اور عبور کرنے والے افراد کو کم از کم چوبیس گھنٹے قبل اپنی تفصیلات جمع کروانی ہوں گی تاکہ اسرائیلی سیکورٹی اہلکاروں کی جانب سے ریموٹ اسکریننگ کی جا سکے۔
رفح کراسنگ غزہ کے باشندوں کے لیے ایک اہم رابطہ نقطہ ہے، خاص طور پر جب دیگر سرحدی راستے محدود یا بند ہوں۔ اس کراسنگ کی بندش نے پچھلے کئی سالوں میں غزہ میں انسانی اور تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔ اسے کھولنے کا عمل خطے میں امن اور استحکام کی کوششوں کا ایک حصہ سمجھا جا رہا ہے تاکہ انسانی امداد اور مسافروں کی نقل و حمل کو آسان بنایا جا سکے۔
مکمل طور پر کھلنے کے بعد، یہ کراسنگ غزہ کی معیشت اور روزمرہ زندگی میں بہتری لانے میں مدد دے گا، تاہم حفاظتی خدشات اور سیاسی پیچیدگیوں کی بنا پر اس کا عمل آہستہ آہستہ اور محتاط انداز میں کیا جا رہا ہے۔ مستقبل میں اس کراسنگ کی مکمل فعالیت خطے میں نقل و حمل کی صورتحال پر منحصر ہوگی۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے