ایرانی سپریم لیڈر کا امریکی جنگ کی صورت میں علاقائی تنازعہ کی وارننگ

زبان کا انتخاب

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ کسی بھی قسم کا فوجی تصادم شروع کرتا ہے تو اس کا نتیجہ پورے خطے میں جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق خامنہ ای نے اس بات پر زور دیا کہ اس قسم کے تصادم کے اثرات صرف کسی ایک جگہ محدود نہیں رہیں گے بلکہ خطے بھر میں پھیل جائیں گے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان لفظی لڑائی اور عسکری مظاہرے جاری ہیں۔ ایران کا موقف طویل عرصے سے امریکہ کی جانب سے خطے میں مداخلت اور دباؤ کو مسترد کرتا رہا ہے اور ہر ممکن طریقے سے اپنی دفاعی حکمت عملی پر زور دیتا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر کی یہ وارننگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر سفارتی راستے سے مسائل کا حل نہ نکالا گیا تو مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام مزید گہرے اور وسیع ہو سکتے ہیں۔ خطے میں جاری سیاسی اور عسکری بحرانوں کی وجہ سے عالمی برادری بھی تشویش میں مبتلا ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ عالمی توانائی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
ماضی میں بھی ایران اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی کی کئی بار کیفیت دیکھنے میں آئی ہے، جس میں ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی طاقتوں کی حریفانہ پالیسیاں اور اقتصادی پابندیاں شامل ہیں۔ اس پس منظر میں، آیت اللہ خامنہ ای کا یہ بیان مستقبل میں ممکنہ تنازعات کے خدشات کو اجاگر کرتا ہے اور اس بات کی ضرورت پر زور دیتا ہے کہ خطے کے مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لئے مذاکرات اور سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جائے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے