بٹ کوائن کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے باعث مائیکل سیلور کی کمپنی، اسٹریٹیجی انویسٹمنٹ، کے بٹ کوائن ذخیرے کی مجموعی قیمت اب اس کے شیئر ہولڈرز کی ملکیت میں قدرے کمی کا شکار ہو چکی ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے کمپنی کے شیئرز کا مارکیٹ میں قیمت اس کے بٹ کوائن اثاثوں کی مالیت سے نیچے آ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ کمپنی اپنی اضافی بٹ کوائن خریداریوں کو بغیر شیئر ہولڈرز کی ملکیت کو کم کیے نہیں کر سکتی۔
مائیکل سیلور کے زیر قیادت اسٹریٹیجی انویسٹمنٹ نے گزشتہ کچھ برسوں میں بٹ کوائن میں وسیع سرمایہ کاری کی ہے اور اسے بٹ کوائن کی سب سے بڑی کارپوریٹ ہولڈر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس سرمایہ کاری کے پیچھے خیال یہ تھا کہ بٹ کوائن مستقبل میں قدر میں اضافہ کرے گا اور یہ ایک طویل مدتی اثاثہ ثابت ہوگا۔ البتہ، کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور عالمی مالیاتی حالات کی تبدیلیوں کی وجہ سے بٹ کوائن کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
یہ قیمت کی کمی کمپنی کی سرمایہ کاری کی حکمت عملی پر کچھ چیلنجز پیدا کر سکتی ہے، خاص طور پر جب وہ مزید بٹ کوائن خریدنا چاہتی ہے۔ تاہم، مائیکل سیلور نے ماضی میں متعدد بار اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ بٹ کوائن کو طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر دیکھتے ہیں اور قلیل مدتی مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ سے پریشان نہیں ہوتے۔ اس لیے امکان ہے کہ وہ فی الحال کوئی فوری فیصلہ نہیں کریں گے اور مارکیٹ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی جاری رکھیں گے۔
عام طور پر، بٹ کوائن جیسی ڈیجیٹل کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں عدم استحکام عام بات ہے، اور سرمایہ کاروں کو ایسے اتار چڑھاؤ کا سامنا رہتا ہے۔ اس صورتحال میں، اسٹریٹیجی انویسٹمنٹ کی مالی حالت اور اس کے شیئرز کی قیمتوں کی بحالی کا انحصار عالمی مالیاتی منڈیوں اور کرپٹو کرنسی کی مقبولیت پر ہوگا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk