بھارت میں کرپٹو کرنسی پر ٹیکس کے حوالے سے نظرثانی کا دباؤ، تجارتی سرگرمیاں آف شور منتقل

زبان کا انتخاب

بھارت میں کرپٹو کرنسی کی تجارت میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آف شور منتقلی کے باعث انڈسٹری کے ماہرین اور تجارتی حلقے حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ آئندہ مالی بجٹ میں کرپٹو کرنسی پر عائد ٹیکس نظام کا ازسرنو جائزہ لے۔ ملکی سطح پر کرپٹو کرنسی کے لین دین میں کمی اور مقامی ایکسچینجز سے سرمائے کے نکلنے کی وجہ سے حکومتی ریگولیٹری نگرانی متاثر ہو رہی ہے۔
کرپٹو کرنسی ایک ڈیجیٹل یا ورچوئل کرنسی ہے جو بلاک چین ٹیکنالوجی کی بنیاد پر چلتی ہے۔ بھارت میں کرپٹو کرنسی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے لیکن ٹیکس قوانین کی سختی اور پیچیدگی کے باعث بہت سے سرمایہ کار اور تاجر اپنی سرگرمیاں بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں جہاں ٹیکس کے قوانین نسبتاً نرم ہیں۔ اس صورتحال سے نہ صرف ملکی کرپٹو مارکیٹ متاثر ہو رہی ہے بلکہ حکومت کی آمدنی پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کی تجارت میں شفافیت اور ریگولیشن کے لیے ٹیکس نظام کو آسان اور قابل قبول بنانا ضروری ہے تاکہ سرمایہ کار ملکی مارکیٹ میں رہیں اور سرمائے کا بہاؤ برقرار رہے۔ اس کے علاوہ، مقامی کرپٹو ایکسچینجز کی مالی صحت اور ان کے ذریعے فراہم کی جانے والی خدمات کو مستحکم کرنا بھی اہم ہے تاکہ صارفین کو بہتر سہولیات میسر ہوں اور غیر ملکی مارکیٹ کی طرف رجحان کم ہو۔
حکومت کے لیے یہ ایک نازک موقع ہے کہ وہ مالی بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے حوالے سے موثر اصلاحات لا کر اس صنعت کو فروغ دے اور اس کے ساتھ ساتھ مالی شفافیت اور ٹیکس کی وصولی کو یقینی بنائے۔ اگر اصلاحات نہ کی گئیں تو بھارت کرپٹو مارکیٹ میں پیچھے رہ سکتا ہے اور سرمایہ کار دیگر ممالک میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے سکتے ہیں۔
کرپٹو کرنسی کے عالمی منظرنامے میں دیگر ممالک نے بھی مختلف حکومتی حکمت عملی اپنائی ہیں، جس سے بھارت کو سبق لینے اور اپنے قوانین میں لچک پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ صنعت ملکی معیشت میں مثبت کردار ادا کر سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش