کریپٹو کرنسی کی دنیا میں تجزیہ کار اور معروف انفلوئنسر مرفی نے ایک اہم وضاحت پیش کی ہے جس میں انہوں نے اس بات کی تفصیل دی ہے کہ سپلائی تناسب کو کس طرح حساب کیا جاتا ہے، خاص طور پر اس تناسب کو اسپاٹ پرائس کے 5 فیصد کے اندر کیسے مانیٹر کیا جاتا ہے۔ مرفی کے مطابق، یہ حساب کتاب ایکسچینجز کے آرڈر بک کے ڈیٹا کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جو مارکیٹ میں دستیاب خرید و فروخت کے احکامات کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ یہ طریقہ کار Volume Profile Visible Range (VPVR) کے طریقہ سے مختلف ہے۔
کریپٹو کرنسی مارکیٹ میں سپلائی تناسب کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی مخصوص قیمت کی حد کے اندر کتنا کرپٹو کرنسی کا حجم دستیاب ہے یا مارکیٹ میں گردش کر رہا ہے۔ یہ معلومات سرمایہ کاروں اور ٹریڈرز کے لیے اہم ہوتی ہے کیونکہ اس سے مارکیٹ کی لیکوئڈیٹی اور ممکنہ قیمت کی حرکتوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مرفی کی یہ وضاحت اس لیے اہم ہے کیونکہ مارکیٹ میں مختلف طریقہ کار اور ڈیٹا کے استعمال سے متعلق الجھنیں پائی جاتی ہیں، اور یہ وضاحت سرمایہ کاروں کو بہتر فیصلہ سازی میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔
کریپٹو کرنسی ایکسچینجز پر آرڈر بک ڈیٹا کی بنیاد پر سپلائی تناسب کا حساب مارکیٹ کی حقیقی حالت کو زیادہ درست انداز میں ظاہر کرتا ہے، کیونکہ یہ اصل وقت میں موجود خرید و فروخت کے آرڈرز کو مد نظر رکھتا ہے۔ اس کے برعکس، VPVR ایک تکنیکی تجزیہ کا آلہ ہے جو مختلف قیمتوں پر حجم کی تقسیم کو دکھاتا ہے، لیکن یہ ہمیشہ مارکیٹ کے موجودہ آرڈر بک کی عکاسی نہیں کرتا۔
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی ہے جب کریپٹو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور قیمتوں کی تیزی سے تبدیلیاں عام ہیں، اور سرمایہ کار ہر ممکن ذریعہ استعمال کرتے ہیں تاکہ مارکیٹ کی بہتر سمجھ بوجھ حاصل کر سکیں۔ مستقبل میں، اس قسم کی معلومات سے مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے خطرات کو کم کرنے اور بہتر حکمت عملی بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance