امریکہ میں ہاؤس آف ریپریزنٹیٹیوز کے ڈیموکریٹ ارکان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مواخذے کے لیے مطلوبہ ووٹوں کی تعداد کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق صرف چند ووٹس کی کمی رہ گئی ہے تاکہ مواخذے کی کارروائی شروع کی جا سکے، جسے مارچ کے آخر تک مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت امریکی سیاسی ماحول میں جاری کشیدگی اور صدر ٹرمپ کی پالیسیوں و عمل پر ہونے والی بحث و مباحثے کے درمیان سامنے آئی ہے۔
صدر ٹرمپ کی مواخذے کی تحریک گزشتہ چند سالوں میں کئی بار اٹھائی گئی ہے، جو ان کے دور صدارت میں مختلف متنازعہ فیصلوں اور رویوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ مواخذے کا عمل امریکی آئین کے تحت صدر یا کسی اعلیٰ عہدیدار کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے پارلیمنٹ کی جانب سے شروع کیا جاتا ہے، جس کے لیے ہاؤس آف ریپریزنٹیٹیوز میں اکثریت کا ووٹ لازمی ہوتا ہے۔ اگر ہاؤس میں مواخذے کی منظوری مل جاتی ہے تو معاملہ سینیٹ میں جاتا ہے جہاں حتمی فیصلہ کیا جاتا ہے۔
اس بار مواخذے کی تحریک کا مقصد صدر کی حکومت کے دوران پیش آنے والے مختلف واقعات اور ان کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرنا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس عمل سے ملک میں سیاسی تقسیم مزید گہری ہو سکتی ہے، اور دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اپنی حکمت عملیوں پر غور و فکر میں مصروف ہیں۔ اس صورتحال میں آئندہ چند ہفتوں میں سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے، جو امریکی سیاسی منظر نامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
یہ اقدام امریکی جمہوریت کے لیے ایک نازک موقع بھی ہے جہاں آئندہ سیاسی فیصلے ملک کی داخلی سیاست اور بین الاقوامی ساکھ پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے سیاسی رہنماؤں اور عوام کی توجہ اس اہم مرحلے پر مرکوز ہے۔