بٹ کوائن اور ایتھر کی قیمتوں میں کمی، امریکی حکومت کی جزوی بندش کے باعث مارکیٹ میں عدم استحکام

زبان کا انتخاب

امریکی حکومت کی جزوی بندش کے آغاز کے ساتھ ہی بٹ کوائن کی قیمت 83,000 ڈالر کے قریب گر گئی ہے، جس کے نتیجے میں سرمایہ کار محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی ہے جب امریکی ایوانِ نمائندگان میں ایک اہم ووٹ متوقع ہے جس کا فیصلہ مارکیٹ کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
کرپٹوکرنسی مارکیٹ میں اس قسم کی غیر یقینی صورتحال اکثر قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سبب بنتی ہے، کیونکہ سرمایہ کار سیاسی اور اقتصادی غیر یقینی صورتحال میں زیادہ محتاط ہو جاتے ہیں۔ بٹ کوائن اور ایتھر جیسی معروف ڈیجیٹل کرنسیوں کی قیمتیں عام طور پر عالمی اقتصادی حالات اور حکومتی پالیسیوں سے متاثر ہوتی ہیں، اور امریکہ جیسے اقتصادی طور پر طاقتور ملک کی حکومتی بندش اس ضمن میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔
بٹ کوائن، جو دنیا کی سب سے بڑی کرپٹوکرنسی ہے، نے پچھلے کچھ سالوں میں سرمایہ کاری کے لیے ایک متحرک پلیٹ فارم کا کردار ادا کیا ہے، تاہم اس کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ بھی دیکھا گیا ہے۔ دوسری جانب ایتھر، جو ایتھیریئم بلاک چین کا مقبول کرپٹو ٹوکن ہے، بھی اس صورتحال سے متاثر ہو رہا ہے۔
امریکی حکومت کی جزوی بندش عام طور پر وفاقی ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر اور متعدد سرکاری خدمات کے معطل ہونے کی صورت میں سامنے آتی ہے، جو اقتصادی سرگرمیوں میں رکاوٹ کا باعث بن سکتی ہے۔ اس طرح کی سیاسی اور مالی عدم استحکام کرپٹو مارکیٹ میں مزید اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔
آنے والے دنوں میں اگر امریکہ کی حکومت کی بندش طویل مدت تک جاری رہی یا سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا تو کریپٹو مارکیٹ میں مزید مندی کا رجحان دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ سرمایہ کار اس دوران زیادہ محتاط ہو کر اپنے اثاثوں کی حفاظت کو ترجیح دے سکتے ہیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے