واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کے دفتر برائے انتظام اور بجٹ نے ایک میمورینڈم جاری کیا ہے جس میں تصدیق کی گئی ہے کہ چند امریکی سرکاری محکمے آج بند ہو جائیں گے۔ اس دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر کانگریس اپنے کام کو بجٹ کی آخری تاریخ سے قبل مکمل نہیں کر پائے گی۔ یہ تاریخ مشرقی وقت کے مطابق 30 جنوری کی رات 11:59 بجے ختم ہو جائے گی۔
اس فیصلے کے باعث متاثرہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ منظم انداز میں اپنے امور کی بندش کے لیے تیاریاں شروع کریں۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ کون سے محکمے بند ہوں گے، تاہم عام طور پر ایسے حالات میں غیر ضروری سرکاری خدمات عارضی طور پر معطل کر دی جاتی ہیں جب تک کہ نیا بجٹ منظور نہ ہو جائے۔
امریکہ میں وفاقی حکومت کا بجٹ ہر سال کانگریس کی منظوری کے بغیر جاری نہیں رہ سکتا، اور اگر منظوری میں تاخیر ہو جائے تو حکومت کے کچھ حصے بند ہو جاتے ہیں، جس سے عوامی خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس صورتحال کو ‘شٹ ڈاؤن’ کہا جاتا ہے جو کہ مالیاتی بحران یا سیاسی اختلافات کی وجہ سے اکثر پیش آتا ہے۔
گزشتہ برسوں میں بھی امریکہ نے متعدد بار بجٹ کی منظوری میں تاخیر کی وجہ سے حکومت کی جزوی بندش دیکھی ہے جس کے اثرات اقتصادی اور سماجی دونوں سطحوں پر محسوس کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی ممکنہ شٹ ڈاؤن کے باعث مالیاتی مارکیٹس میں غیر یقینی کی فضا پیدا ہو سکتی ہے اور عوام کو سرکاری خدمات کی فراہمی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کانگریس جلد از جلد بجٹ کی منظوری دے کر اس صورتحال سے بچ پاتی ہے یا نہیں، کیونکہ طویل شٹ ڈاؤن سے ملک کی معیشت اور عوامی بھلائی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance