امریکی سینیٹ نے بل منظور کرلیا، ہاؤس کی ووٹنگ سے پہلے ممکنہ سرکاری بندش کا خدشہ

زبان کا انتخاب

امریکی سینیٹ نے ایک نیا بل منظور کرلیا ہے جس پر ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز کی حتمی ووٹنگ متوقع طور پر فروری کے اوائل میں ہوگی۔ تاہم، یکم فروری سے قبل ممکنہ طور پر حکومت کے جزوی طور پر بند ہونے کا خطرہ موجود ہے، جس کے باعث پالیسی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال بڑھ سکتی ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے سرمایہ کار زیادہ محفوظ اثاثوں کی جانب رجوع کر سکتے ہیں، جن میں بٹ کوائن جیسے ڈیجیٹل کرپٹو کرنسی بھی شامل ہیں۔
نانو لیبز کے سی ای او جیک کانگ کے مطابق، تاریخی طور پر جب حکومت کی مالیاتی سرگرمیاں معطل ہوتی ہیں تو روایتی مالی نظام میں خطرات کے پیش نظر سرمایہ کار کرپٹو کرنسیوں کا سہارا لیتے ہیں جو ایک غیر مرکزی اور محفوظ متبادل فراہم کرتی ہیں۔ اس دوران کرپٹو مارکیٹ میں خاصی اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملتا ہے کیونکہ سرمایہ کار اپنی مالی حالت کو مستحکم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
امریکی حکومت کے بجٹ معاملات پر سیاسی کشیدگی اور ممکنہ سرکاری اداروں کی بندش کا اثر نہ صرف ملکی معیشت بلکہ عالمی مالیاتی بازاروں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ ایسے حالات میں مارکیٹ میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری کا رجحان بدل سکتا ہے۔ اس وقت مارکیٹ کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آئندہ مالیاتی فیصلے اور سیاسی پیش رفت کس سمت جائیں گے۔
کرپٹو کرنسیز کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب روایتی مالیاتی نظام میں غیر یقینی صورتحال ہو، کیونکہ یہ کرنسیاں بلاک چین ٹیکنالوجی کی بنیاد پر کام کرتی ہیں اور حکومتی مداخلت سے آزاد ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے سرمایہ کار ان کرنسیوں کو ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر دیکھتے ہیں، خاص طور پر جب عالمی مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ ہو۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش