یورپ کی شمولیت سے عالمی مالیاتی نظام میں ڈی ڈالرائزیشن کا عمل تیز ہو سکتا ہے

زبان کا انتخاب

عالمی مالیاتی نظام میں امریکی ڈالر کی اجارہ داری کو کم کرنے کے عمل یعنی ڈی ڈالرائزیشن پر حالیہ گفتگو میں اب یورپی ممالک کی شرکت بھی سامنے آ رہی ہے، جو اس عالمی رجحان کو مزید تیز کر سکتی ہے۔ ڈی ڈالرائزیشن کا تعلق بنیادی طور پر ابھرتی ہوئی معیشتوں سے جڑا ہوا سمجھا جاتا تھا، جہاں امریکی ڈالر کے بجائے دیگر کرنسیوں اور مالیاتی آلات کو ترجیح دی جا رہی ہے، لیکن یورپ کی شمولیت اس عمل کو ایک نئے مرحلے میں لے جا سکتی ہے۔
امریکہ کی کرنسی کے عالمی مالیاتی لین دین میں غلبے کی وجہ سے دیگر ممالک کی معیشتیں اس پر انحصار کرتی ہیں، جس کے باعث عالمی سرمایہ کاری اور تجارتی بہاؤ میں امریکی ڈالر کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں، تجارتی تنازعات، اور مالیاتی پابندیوں نے کئی ممالک کو متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے تاکہ وہ امریکی ڈالر کی اجارہ داری سے خود کو آزاد کر سکیں۔
یورپی یونین کے مالیاتی اقدامات اور ان کی کرنسی یورو کو عالمی سطح پر مضبوط کرنے کی کوششیں اس رجحان کو مزید فروغ دے سکتی ہیں۔ اگر یورپی ممالک بھی امریکی ڈالر کے استعمال کو کم کرنے کی طرف بڑھیں تو عالمی سرمایہ کاری کے بہاؤ میں نمایاں تبدیلیاں آسکتی ہیں، جس سے عالمی مالیاتی نظام میں توازن میں تبدیلی کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
یہ عمل عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں نئی حکمت عملیوں اور مالیاتی آلات کی تخلیق کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ تاہم، اس تبدیلی کے دوران عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کے لیے خطرات بھی موجود رہیں گے، جنہیں سمجھداری سے سنبھالنا ضروری ہے۔
ڈی ڈالرائزیشن کی یہ نئی لہر عالمی معیشت کے مستقبل کو متاثر کرے گی اور عالمی مالیاتی اداروں اور ممالک کو نئے چیلنجز اور مواقع فراہم کرے گی۔ اس لیے سرمایہ کاروں، مالیاتی ماہرین اور پالیسی سازوں کے لیے اس رجحان پر گہری نظر رکھنا اہم ہو گیا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش