قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے جہاں چاندی کی قیمت میں تقریباً 35 فیصد تک گراوٹ ہوئی ہے جبکہ سونے کی قیمت میں بھی 12 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے برعکس، بٹ کوائن نے اپنی قیمت تقریباً 83,000 ڈالر پر مستحکم رکھی ہے، جو کہ کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں ایک اہم نشانی سمجھی جا رہی ہے۔
کرپٹو کرنسی کے حامیوں کا ماننا ہے کہ بٹ کوائن کی قیمت میں اضافے کا آغاز تب ہوگا جب سرمایہ کار گرم قیمتی دھاتوں سے اپنے پیسے نکال کر کرپٹو مارکیٹ میں ڈالیں گے۔ اس نظریے کی تصدیق یا تردید کا مرحلہ اب قریب ہے، کیونکہ قیمتی دھاتوں کی گرتی ہوئی قیمتوں نے سرمایہ کاروں کے رویے میں تبدیلی کا اشارہ دیا ہے۔
سونا اور چاندی تاریخی طور پر مالی عدم استحکام یا مہنگائی کے خلاف محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سمجھی جاتی ہیں۔ ان دھاتوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عالمی معیشت، سود کی شرحوں، اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر منحصر ہوتا ہے۔ موجودہ گراوٹ کی وجوہات میں ممکنہ طور پر عالمی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی افراط زر، مرکزی بینکوں کی پالیسیوں میں تبدیلی، اور دیگر مالی عوامل شامل ہو سکتے ہیں۔
بٹ کوائن، جو ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے، نے حالیہ سالوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں اور اسے بعض سرمایہ کار ڈیجیٹل سونا بھی کہتے ہیں۔ اس کی قیمت میں استحکام یا اضافہ عالمی مالیاتی منڈیوں کے رجحانات پر منحصر ہوتا ہے۔
اگر قیمتی دھاتوں سے سرمایہ کاری نکال کر بٹ کوائن میں منتقل ہوتی ہے، تو کرپٹو مارکیٹ میں مزید تیزی آ سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال اور اتار چڑھاؤ میں اضافہ کا امکان بھی موجود ہے۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ اپنی مالی منصوبہ بندی میں محتاط رہیں اور مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کا بغور جائزہ لیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk