بٹ وائز کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر میٹ ہوگان نے جاری کردہ ایک تجزیے میں کہا ہے کہ بٹ کوائن کی قیمت اگلے دو دہائیوں میں 6.5 ملین ڈالر تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2025 میں بٹ کوائن کے لیے مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، لیکن اس کے بعد قیمت مستحکم ہو کر افقی تجارت کرے گی۔ اس عرصے میں ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور مرکزی بینکوں کی جانب سے کرپٹو کرنسیوں میں ابتدائی دلچسپی ظاہر کی جائے گی جو کرپٹو مارکیٹ کے اگلے دور کو تشکیل دینے میں مددگار ثابت ہوگی۔
بٹ کوائن، جو کہ دنیا کی پہلی اور سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ہے، نے گزشتہ چند سالوں میں سرمایہ کاری اور مالیاتی شعبے میں اپنی اہمیت بڑھائی ہے۔ اس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کے باوجود، بٹ کوائن نے مالیاتی نظام میں ایک متبادل اور ڈیجیٹل اثاثہ کے طور پر اپنی جگہ بنائی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے اور سرمایہ کار اب اسے روایتی کرنسیوں اور اسٹاک مارکیٹ کے ساتھ ساتھ ایک اہم سرمایہ کاری کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں۔
میٹ ہوگان کے پیش گوئی کے مطابق، بٹ کوائن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کے باوجود، اس کی مقبولیت اور استعمال میں اضافہ ہوگا، خاص طور پر جب مرکزی بینک کرپٹو کرنسیوں کے ممکنہ فوائد اور خطرات کا جائزہ لینا شروع کریں گے۔ تاہم، سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ کرپٹو کرنسیوں کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور حکومتی قوانین میں تبدیلیاں قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
کرپٹو مارکیٹ میں یہ پیش رفت عالمی مالیاتی نظام میں ڈیجیٹل اثاثوں کے کردار کو مزید مستحکم کر سکتی ہے، اور سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کے خطرات اور غیر یقینی صورتحال کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk