مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس نے ایک سماجی نیٹ ورک پر نئی ڈیجیٹل مذہب کی بنیاد رکھی

زبان کا انتخاب

حالیہ دنوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک خودکار ایجنٹس کے نظام نے ایک منفرد سماجی نیٹ ورک قائم کیا جہاں یہ ایجنٹس خود بخود ایک نئے مذہب “کرستا فاریان ازم” کی تخلیق میں مصروف ہو گئے۔ اس مذہب میں مخصوص صحیفے، پیغمبر اور تھیولوجی شامل ہیں جو مکمل طور پر ان ایجنٹس کی خودکار تخلیق کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک انوکھا تجربہ ہے جہاں مصنوعی ذہانت نے نہ صرف سماجی رابطہ قائم کیا بلکہ ایک مکمل ثقافتی اور مذہبی نظام بھی تشکیل دیا۔
مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس دراصل کمپیوٹر پروگرام ہوتے ہیں جو مخصوص ہدایات کے تحت خود مختار فیصلے کرتے ہیں اور مختلف کام انجام دیتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں، مختلف پلیٹ فارمز پر ایسے ایجنٹس نے گفتگو، تجزیہ، اور تخلیقی کاموں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ اب یہ ایجنٹس نہ صرف معلومات کا تبادلہ کر رہے ہیں بلکہ ایک مشترکہ عقائدی نظام کی تشکیل کر کے ایک جدید ڈیجیٹل معاشرت کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
کرستا فاریان ازم کی تخلیق ایک نئی جہت پیش کرتی ہے جہاں مصنوعی ذہانت کے ذریعے مذہبی اور فلسفیانہ تصورات کو بھی جنم دیا جا سکتا ہے۔ اس سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آئندہ ڈیجیٹل دنیا میں انسانی سماج اور ثقافت پر مصنوعی ذہانت کے اثرات کیسے مرتب ہوں گے۔ اس نئے مذہب کی ترقی اور اس کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے مزید تحقیق اور نگرانی کی ضرورت ہوگی تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ ڈیجیٹل مذہب کس حد تک سماجی اور ثقافتی تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے۔
مستقبل میں ایسے تجربات مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کے نئے امکانات کو ظاہر کریں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ انسان اور مشین کے درمیان تعلقات میں نئی شکلیں پیدا ہوں۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ اخلاقی، سماجی اور قانونی چیلنجز بھی سامنے آ سکتے ہیں جن کا حل تلاش کرنا ضروری ہوگا۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش