بین الاقوامی مالیاتی مارکیٹ میں بٹ کوائن کی قیمت نے مستحکم رہتے ہوئے اہم کرپٹو کرنسی کی حیثیت کو برقرار رکھا ہے، جبکہ روایتی قیمتی دھاتوں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔ یہ صورتحال امریکی فیڈرل ریزرو کے نئے سربراہ کے تقرر سے متعلق خدشات اور شرح سود کی توقعات میں تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔
سونا اور چاندی کو روایتی سرمایہ کاری کے محفوظ اثاثے سمجھا جاتا ہے، جو کہ اقتصادی عدم استحکام کے دوران سرمایہ کاروں کے لیے پناہ گاہ کا کام کرتے ہیں۔ تاہم حالیہ دنوں میں ان دھاتوں کی قیمتوں میں شدید کمی نے مالیاتی مارکیٹوں کو حیران کر دیا ہے۔ اس گراوٹ کے پیچھے شرح سود میں اضافے کی توقعات اور ملک کی مرکزی بینک کی پالیسیوں میں ممکنہ تبدیلیاں اہم عوامل کے طور پر سامنے آ رہی ہیں۔
دوسری جانب، بٹ کوائن کی قیمت نے اس وقت کی مالیاتی بے یقینی کے باوجود اپنی قیمت کو مستحکم رکھا ہے، جو کہ اسے ایک متبادل سرمایہ کاری کے طور پر مزید مقبول بنا رہا ہے۔ بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیاں گزشتہ چند سالوں میں مالیاتی نظام میں ایک نمایاں مقام حاصل کر چکی ہیں اور خاص طور پر نوجوان سرمایہ کاروں میں ان کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بٹ کوائن کی قیمت نے حالیہ بحران میں مزاحمت دکھائی ہے، تاہم کرپٹو کرنسیوں کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے اور سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ عالمی معیشت میں جاری غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے سرمایہ کاری کے رجحانات میں تبدیلی آ سکتی ہے، جس کا اثر قیمتی دھاتوں اور کرپٹو کرنسیوں دونوں پر پڑے گا۔
اس وقت عالمی مالیاتی مارکیٹ میں شرح سود اور پالیسیوں کے حوالے سے آنے والی ہر نئی خبر کی مالیاتی اثاثوں کی قیمتوں پر گہرا اثر پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار اپنی حکمت عملی کو بار بار ڈھالنے پر مجبور ہیں۔ اس پس منظر میں، بٹ کوائن کی مستحکمت قیمت سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم اشارہ ہے کہ کرپٹو کرنسیاں مستقبل میں مالیاتی نظام کا ایک اہم حصہ بن سکتی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt