ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مقامی سطح پر مصنوعی ذہانت (AI) کے ڈیٹا سینٹرز کی مخالفت میں اضافہ، اس ٹیکنالوجی کے انفراسٹرکچر کی ترقی کو سست کر سکتا ہے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمیونٹی کے مفادات کو یقینی بنانے والے معاہدے لازمی ہوتے جا رہے ہیں تاکہ مقامی آبادیوں کی شکایات اور تحفظات کو دور کیا جا سکے۔
مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی میں بڑے ڈیٹا سینٹرز کا اہم کردار ہے، جہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعے ڈیٹا پروسیسنگ کی جاتی ہے۔ یہ مراکز جدید کمپیوٹر ہارڈویئر اور توانائی کے بڑے وسائل استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے بعض مقامی کمیونٹیز ماحولیات، توانائی کے استعمال اور انفراسٹرکچر پر دباؤ کے حوالے سے خدشات ظاہر کر رہی ہیں۔ اس طرح کی مخالفت کی وجہ سے کئی منصوبے تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں یا انہیں مکمل طور پر منسوخ کر دیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمیونٹی بینیفٹ ایگریمنٹس (CBA) جیسے معاہدے، جو مقامی آبادیوں کو مالی، ماحولیاتی اور سماجی فوائد فراہم کرتے ہیں، نہ صرف تنازعات کو کم کرتے ہیں بلکہ ڈیٹا سینٹرز کی توسیع میں شفافیت اور تعاون کو فروغ دیتے ہیں۔ ان معاہدوں کے ذریعے علاقے کی روزگار کی صورتحال بہتر کرنے، توانائی کے زیادہ قابل تجدید ذرائع استعمال کرنے اور مقامی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کا شعبہ عالمی معیشت میں تیزی سے اہم ہوتا جا رہا ہے اور اس کی ترقی سے متعدد صنعتوں میں جدت آ رہی ہے۔ تاہم، اگر ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور توسیع میں رکاوٹیں بڑھیں تو یہ AI کی ترقی کو متاثر کر سکتی ہیں، جس سے نہ صرف ٹیکنالوجی کی دنیا بلکہ عام صارفین بھی متاثر ہوں گے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ حکومتوں، کمپنیوں اور مقامی کمیونٹیز کو مل کر ایسے معاہدے بنانے چاہئیں جو تمام فریقوں کے مفادات کا تحفظ کریں تاکہ مصنوعی ذہانت کا انفراسٹرکچر بلا رکاوٹ ترقی کر سکے اور اس کے مثبت اثرات معاشرے تک پہنچ سکیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt